عقائد

صفات حق تعالیٰ

صفات حق تعالیٰ: خدا وند عالم کے صفات دو قسم کے ہیں : ١۔صفات ثبوتیہ ٢۔صفات سلبیہ صفات ثبوتیہ کی بھی دو قسمیں ہیں

 

١۔صفات ذات: یعنی یہ صفات ذات عین ذات ہیں اور یہ پانچ ہیں قدرت ، علم ، حیات،اذلی و ابدی . ١۔قدرت:یعنی خدا وند عالم قادر مطلق ہے یعنی جو کچھ بھی اس کی مشیت میں آجائے اس کہ انجام دیتاہے اور کسی چیز کے (پیدا کرنے کے)بارے میں عاجز نہیں ہے اور کسی چیز پر مجبور بھی نہیں ہے ۔ ٢۔علم:یعنی خدا وند عالم تمام موجودات کاعلم رکھتا ہے یہاں تک کہ انسان کی نیت اور فکر کا بھی علم رکھتا ہے اور خداوند عالم کا علم ہمیشہ تمام موجودات پر احاطہ رکھتاہے. (لاَیَعْزُبُ عَنْہُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِی السَّمَاوَاتِ وَلاَفِی الَْرْضِ وَلاََصْغَرُ مِنْ ذَلِکَ وَلاََکْبَرُ ِلاَّ فِی کِتَابٍ مُبِین)(١)۔ یعنی ایک ذرّہ بھی اس آسمان و زمین میں سے کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں ہے . ٣۔حیات:یعنی خدا وند عالم زندہ ہے اور تمام موجودات کو زندہ کرنے والا ہے پس اگر خدا وند عالم زندہ نہ ہوتا تو کسی دوسری چیز کو زندگی نہیں دے سکتا پس معلوم ہوا کہ خدا وند عالم زندہ ہے (خدا وند عالم کی نسبت موت کا تصور ہی نہیں کر سکتا) ٤،٥۔ازلی و ابدی:یعنی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا یعنی وہ ذات اوّ ل بھی ہے اور آخر بھی ہے اور نہ کوئی اس سے پہلے ہے اور نہ کوئی اس کے بعد ہے خلاصہ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی نسبت سے کوئی کسی کا پہلے اور بعد کا کوئی معنی نہیںہے وہی اوّل بھی ہے اور وہی آخر بھی ہے اور یہ دو صفتیں وجود کے لوازم میں سے ہے جیسے سننا اور دیکھنا یہ صفات خداوند عالم کے علم کی صفات ہیں صفات ذات نہیں ہیں۔ قسم دوّم:صفات ثبوتیہ کی دوسری قسم صفات فعل ہے اور صفات ذات نہیں (بلکہ فعل اللہ کی صفات ذاتی سے ہے نہ کہ خود ذات ) یہ وہ صفات ہیں جو خدا وند عالم کی صفات کے ساتھ مختص ہیں.مثال کے طور پر : سورہ سبا۔٣ ١۔مرید: اللہ ہر کام کو قصد و ارادہ کے ساتھ انجام دیتا ہے اور یہ آگ کی طرح نہیں ہے کہ جو جلانے میں بغیر قصد و ارادہ کیساتھ ہو۔ ٢۔متکلم:یعنی حقائق کو دوسرں کے لئے اظہار کرے تاکہ اس کے مقاصد کو لوگ سمجھ سکیں۔ ٣۔رازق:یعنی خدا وند عالم تمام موجودات کو یعنی قدرت سے رزق دیتا ہے اور اپنے مقرر نظم کے ساتھ رزق پہونچاتا ہے . ٤۔خالق:یعنی خداوند عالم سارے آسمان و زمین اور جو کچھ اس زمین و آسمان میں ہے ان کو پیدا کرنے والا ہے پس معلوم ہوا کہ خدا وندعالم کے لئے ان صفات کے علاوہ اور بھی صفات ہیں کہ وہ اوصاف بھی انہی صفات فعل کے ساتھ شمارکئے جاتے ہیں اور دلیل یہ ہے کہ خداوند عالم میں یہ تمام اوصاف کمالیہ موجود ہیں.لیکن ہمارا یہ کتابچہ بہت مختصر ہے ،لہذا اسی پر کفایت کرتے ہیں۔ دوسری قسم صفات سلبیہ : یعنی صفاتیہ سلبیہ وہ صفات ہیں کہ جو خدا وند عالم کے ذات کی شان کے مطابق نہیں ہیں لہذا اللہ کو ان اوصاف سے پاک و منزّہ سمجھنا چاہیے اور وہ یہ ہیں: ١۔مرکب نہیں ہے،کیونکہ ہر مرکب اجزاء پر محتاج ہے اور جو ذات محتاج ہے وہ واجب الوجود نہیں ہو سکتا ۔ ٢جسم و عرض نہیں ہے ،کیونکہ ہر جسم وعرض مکان کا محتاج ہے یعنی بغیر مکان کے اس کا وجود پیدا نہیں ہو سکتا ہے۔ چونکہ خدا وند عالم خالق و مکان ہے اور کسی مکان کا محتاج نہیںہے۔ ٣۔مر ئی ہے :یعنی وہ ذات جو دیکھی نہیں جا سکتی چونکہ جسم ہے جو دیکھا جا سکتا ہے ۔اور اللہ کے لئے جسم نہیں ہے پس معلوم ہوا کہ ہم خدا وند عالم کو دیکھ نہیں سکتے کیونکہ جسم نہیں ہے۔ محل حوادث نہیں ہے،یعنی خدا وند عالم پر کوئی حالات جسم (جیسے جوانی ،پیری، مرض، صحت ،قوّت اور کمزوری وغیرہ جو اوصاف جسم ہے) عارض نہیں ہوتا کیونکہ اس جیسا اللہ کے لئے صفات آثار جسم اور مادہ ہے اور خدا وند عالم کے لئے نہ کوئی جسم ہے اور نہ مادہ ہے۔ ٥۔کوئی شریک اور مددگار نہیں ہے،کیونکہ شریک ہونا محتاج کی علامت ہے یا عجز اور کمزوری کی علامت ہے اور اللہ تعالیٰ نہ عاجز ہے نہ کمزور اور محتاج ہے۔ ٦۔محتاج نہیں ہے ،چو نکہ یہ عالم اپنے نظم و نظام کے ساتھ چلاتا ہے اور وہ کسی کا محتاج نہیں ہے۔

 

اصل دوّم نبوت: علم اور حکمت خداوند عالم تقا ضا کرتی ہے کہ لوگوں کے ارشاد اور راہنمائی کے لئے اپنے درمیان سے کسی کو اپنی طرف سے نمائندے بنایا جائے اور انھی نمائندوں کے توسط سے اپنے احکام اور قانون کو لوگوں تک پہونچایا جائے تاکہ احکام اور قوانین پر عمل کرنے سے لوگ کمال تک پہونچ جائیں اور باعث سعادت بن جائیں ۔اس لئے یہ پیغمبران اللہ کے چنے ہوئے بندے ہیں جو وحی کے ذریعے اللہ سے رابطہ کرکے حقائق کو لوگوں تک پہونچاتے ہیں ،اور ان پیغمبروں کے لئے معصوم ہونا یعنی گناہ اور اشتباہ سے پرہیزکرنا اور اس کے ساتھ اپنے ادعائے نبوّت کو ثابت کرنے کے لئے کسی کا ہونا ضروری ہے۔چونکہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا وند عالم نے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کو بھیجا ہے اور سب سے پہلے حضرت آدم اور ان کے آخری ؟حضرت محمد ۖتھے اور ان میں سے پانچ اولوالعزم تھے جس کی طرف قرآن کریم نے اشارہ کیا ہے: (فاصبر کما صبر اولوالعزم من الرسل) اے میرے رسول صبر کرو جیسے اولوالعزم رسولوں نے صبر کیا ہے، اور یہ اولوالعزم پیغمبر پانچ ہیں جیسے حضرت نوح ٢۔حضرت ابراہیم ٣۔حضرت موسی ٤۔حضرت عیسی ٥۔حضرت محمد بن عبداللہ ۖ۔ حضرت محمد ۖ تھے،حضرت محمدبن عبداللہ ۖ آخری پیغمبر ہیں اور کوئی پیغمبر نہیں ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں اُن کو آخری پیغمبر کہا گیا ہے ۔ اس لئے یہ آخری پیغمبر ہیں اور اُن کو آخری پیغمبر سمجھنا ضروریات دین میں سے ہے ، آن حضرت کے رسول ہونے کی دلیل بہت زیادہ ہے لیکن یہاں فقط ایک دلیل پر اکتفا کرتے ہیں اور وہ قرآن ہے چونکہ پیغمبر اکرم ۖ کسی کے شاگرد نہیں ہیںلہذااس کے باوجود بھی اتنا پڑھنا لکھنا جانتے تھے اور کوئی بھی قرآن جیسی کتاب نہیں لا سکا جیسا کہ قرآن کریم میں اعلان ہوا ہے۔ (ا َمْ یَقُولُونَ افْتَرَاہُ قُلْ فَْتُوا بِسُورَةٍ مِثْلِہِ وَادْعُوا مَنْ اسْتَطَعْتُمْ مِنْ دُونِ اﷲِ ِنْ کُنْتُمْ صَادِقِینَ)(١) آیا وہ لوگ کہتے ہیں کہ وہ قرآن کی اللہ کی طرف جھوٹی نسبت دیا ہے (اگر یہ لوگ سچ بولتے ہیں تو ایک سورہ اس کی طرح لائیں اور اللہ کی طرح کسی اور سے مدد طلب کریں) پیغمبر اکرم ۖ بہت سارے معجزے کے مالک ہیں جو اپنی زندگی میں معجزات کو دکھایا ہے، تاریخ اور حدیث کی کتابوں سے یہ ثابت ہے کہ قرآن مجید (١)سورہ یونس.٣٨ا جیسا معجزہ جوہمیشہ کے لیٔے ثابت ہے اور آن حضرت کی نبوت کے لیٔے دلیل قطع ہے اور یہ تنہا کتاب آسمانی ہے کہ اس میں کوئی ردو بدل اور تحریف وغیرہ نہیں ہوئی یعنی بغیر کمی و زیادتی کے ہاتھوں میں موجود ہے .

 

اصل سوّم معاد جسمانی ہے : سارے انبیائے الہی کا اس مطلب پر اتفاق ہے کہ انسان کی زندگی مرنے سے تمام نہیں ہوتی چونکہ اس عالم کے بعد ایک اور عالم موجود ہے جو اس عالم میں انسان کو اپنے اعمال کا اجر و سزا دیکھنا ہے یہ اصل معاد ہے (معاد کا ہونا)یعنی تمام ادیان آسمانی کی ضروریات میں سے ہے (جو اس دنیا سے مرنے کے بعد اس عالم میں زندگی کرنا )لہذا معاد جسمانی کے بارے میں کئی امور پر اعتقاد رکھنا ضروری ہے ١۔ مرنے کے بعد نیک انسان کے ارواح عالم برزخ کے جہنم اور عذاب میں مبتلا ہو جائیں گے (لہذا اس پر اعتقاد رکھنا قیامت تک بہت ضروری ہے ) ٢۔ معاد جسمانی پر اعتقاد رکھنا ضروری ہے چونکہ بعض آیات قرآن کے ظاہر اور بعض آیات کی تصریح سے معلوم ہوتا ہے کہ معاد جسمانی ضروری ہے چونکہ انسان قیامت کے دن اسی جسم دنیا کے ساتھ محشور ہوں گے ،جیسا کہ خدا وند عالم سورہ قیامت میں فرماتاہے: (َیَحْسَبُ الِْنسَانُ َلَّنْ نَجْمَعَ عِظَامَہُ ، بَلَی قَادِرِینَ عَلَی َنْ نُسَوِّیَ بَنَانَہُ )(١) کیا انسان گمان کرتاہے کہ جو ہم اس کی سڑی ہوئی ہڈیاںجمع نہیںکر سکتے ؟ہاں کیوں نہیں کرسکتے ہیں اس چیز پر ہم قادر ہیں یہاں تک کہ انسان کی انگلیوں کے سرے تک بنانے پر قادر ہیں ۔ ٣۔بہشت اور اسکی نعمتیں اور جہنم اور اس کے عذاب ،صراط، میزان،ہر ایک کے نامہ اعمال کا حساب لینا حق ہے لہذا اس پر اعتقاد رکھنا ضروری ہے ۔

 

اصل چہارم : عدل ،چوتھا رکن شیعہ امامی کے اعتقاد کے مطابق اللہ کے عادل ہونے کی بہترین دلیل یہ ہے کہ خدا وند عالم کسی چیز پر ظلم نہیں کرتا ہے چونکہ وہ جس کام کو عقل سلیم قبیح ناپسند سمجھتی ہے وہ اسے انجام نہیں دیتاہے ،یعنی عقل کہتی ہے کہ نیک کام پر سزا دینا ظلم ہے اور ظلم قبیح ہے،خداوند عالم کبھی بھی کسی قبیح اور حکمت کے خلاف والے کام کو انجام نہیں دیتا ہے ۔دوسری دلیل :خداوند عالم ہے یعنی وہ ظلم نہیں کرتا (١)سورہ قیامت۔٣،٤ ہے ، ظلم یا جہالت کی وجہ سے ہے یا نیاز مندی کی وجہ سے،یعنی اگر کوئی ظلم کرتا ہے اور وہ نہیں جانتا ہے کہ یہ اس کا کام ظالمانہ ہے یا جانتا ہے لیکن عاجز ہے اور اس کام کو عادلانہ طور پر انجام نہیں دے سکتا لہذا وہ ظلم کرتاہے اور یہ ظلم جہل اور عاجزانہ اور نیاز مندی اور ممکنات کے صفات میں سے ہے ، خدا وند عالم ایسے صفات سے پاک ومنزّہ ہے قرآن کریم میں پڑھتے ہیں (انَ اﷲَ لاَیَظْلِمُ النَّاسَ شَیْئًا وَلَکِنَّ النَّاسَ َنْفُسَہُمْ یَظْلِمُونَ ) (١) خداوند عالم لوگوں پر کسی بھی قسم کا ظلم و ستم نہیں کرتالیکن لوگ اپنے نفس پر خود ظلم کرتے ہیں اور اس کے ساتھ خداوند عالم اپنے پیغمبروں کے ذریعے لوگوں کو ظلم کرنے سے منع کیا ہے پس یہ کیسے ممکن ہے جس کام ِکو خود انجام دے اور لوگوں کو اس سے منع کرے ؟۔

علی

اسم:علی ،لقب:امیرالمٔومنین ،کنیت:ابوالحسن ،انکے والدگرامی ابوطالب،والدہ گرامی:فاطمہ بنت اسد ،انکی ولادت مبارک :١٣رجب عام الفیل کے ٣٣سال بعد ۔شہادت مبارک رمضان سال چھلم ھ ق۔


امام
اسم:حسن ،لقب:مجتبی،کنیت:ابومحمداوّل والد گرامی امیرالمؤمنین علی ،والدہ گرامی حضرت فاطمہ زہرا ۔ولادت مبارک ١٥ماہ سال ٣ ہجری ،انکے شہادت مشہور کے مطابق ٢٨ صفر ٥٠ھ ق۔

 

امام
اسم مبارک :حسین، لقب سیدالشہدا کنیت ابو عبداللہ والد گرامی امیرالمؤمنین علی والدہ گرامی حضرت فاطمہ زھرا ولادت مبارک ٣شعبان سال چہارم ھجری ،ان کی شہادت روز جمعہ دہم محرم الحرام سال ٦١ھجری قمری۔


علی
اسم:علی،لقب زین العابدین ،کنیت ابو محمد ،والد گرامی ابو عبداللہ الحسین ،والدہ گرامی شہربانو، ولادت مبارک ٥شعبان سال ٣٨ ھجری شہادت ٢٥محرم الحرام سال ٩٥ہجری قمری۔

 

محمدبن
اسم:محمد لقب باقر ،کنیت ابو جعفر ،والد گرامی علی بن الحسین ،والدہ فاطمہ دختر امام حسن مجتبیٰ ، ولادت مبارک اول ماہ رجب سال ٥٧،شہادت ٧ ذی الحجہ سال ١١٤ھ ق۔

 

امام
جعفربن محمد اسم:جعفر ، لقب صادق، کنیت ابو عبداللہ ،والد گرامی باقر والدہ گرامی ام فروہ،ولادت مبارک ١٧ربیع الاول٨٣، شہادت ٢٥ ماہ شوال ١٤٨ھ ق۔

علی
اسم مبارک علی ،لقب رضا ،کنیت ابوالحسن دوّم والدہ گرامی موسیٰ بن جعفر ، والدہ گرامی نجمہ (ام البنین) ولادت مبارک ١١ ذیقعد ة الحرام سال ١٤٨،اور ان کی غریبانہ شہادت مشہور کے مطابق آخر ماہ صفر سال ٢٠٣ھ ق۔


امام
اسم مبارک :محمد ،لقب جواد ،کنیت ابو جعفر دوّم ،والد گرامی علی بن موسیٰ الرضا ،والدہ گرامی خیز ران ، یا سبیکہ ، ولادت مبارک مشہور کے مطابق ١٠رجب ١٩٥ ہجری آخر ماہ ذیقعدہ سال ٢٢٠ھ ق۔


امام
اسم مبارک :حسن ،لقب عسکری کنیت ابو محمد ،والد گرامی علی بن محمد ،والدہ گرامی حدیثہ ،ولادت مبارک ٨ربیع الثانی ،٢٣٢،شہادت ٨ ربیع الاول سال ٢٦٠ھ ق۔


امام
اسم مبارک:نام حضرت رسول اکرم ۖ،لقب مہدی قائم ،کنیت ابو القاسم ،والد گرامی حسن ،والدہ گرامی نرگس ۔ولادت با سعادت ١٥شعبان ٢٥٥ ،والد گرامی کی شہادت کے موقع پر ٥ سال عمر تھی خداوند متعال حکمت و فصل الخطاب سے ان کونوازا ہے اور ان کو تمام عالم کے لئے ایک بہترین آیت قرار دیا ہے اگر چہ ظاہراََ اس وقت بہت چھوٹے تھے اور مقام و منصب امامت پر فائز ہو گئے اور کچھ مدت والد گرامی کی حیات میں اور کچھ مدت والد گرامی کی شہادت کے بعد بھی عام لوگوں کی نظروں سے غائب تھے لیکن اسی وقت ان کے چار نائب اور بعض خاص افراد حضرت کی زیارت سے فیضیاب ہوتے تھے اور اپنے مسائل کے جواب حاصل کرتے تھے،نائب چھارم(علی بن محمد السمری ) کی وفات کے بعد غیبت کبریٰ کو اختیار فرمایا اور ابھی زندہ ہیں اور لوگوں کی نظروں سے غائب ہیں اس وقت تک کہ خدا وند عالم حکم کر دیگا تو مولا اس وقت ظہور فرما کر اس دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے جیسا کہ خداوندعالم نے وعدہ کیا ہے(١) ۔ (١)سورہ قصص۔٥ اور جد بزرگوار رسول خدا ۖ نے ان کی ولادت سے پہلے خبر دیا ہے۔


اصل پنجم امامت: دین اور مذہب کے اصول میں سے پانچویں اصل امامت ہے ۔ جیسا کہ خداوندعالم اپنے اوپر لازم سمجھتااور پیغمبروں کو بھیجاتاکہ لوگ ظلم و (١)سورہ یونس۔٤٤ جہالت سے نجات حاصل کریں اور راہ راست کی ہدایت پا جائیں اسی طرح لازم سمجھا کہ قانون اور شریعت کو محفوظ رکھنے کے لئے اور اس کو اجراء کرنے کے لیٔے کئی افراد کو پیغمبر کے لیٔے جانشین بنا دیں شیعہ امامیہ کی نظر میں امامت دین کا ستون ہے اور پیغمبر پر جائز نہیں ہے کہ اس کو بغیر تعیّن کے چھوڑ دے،اور اس کے لئے کئی شرائط ہیں۔ ١۔ امامت ایک مقام و منصب الھی ہے کہ خداوند عالم جس کو چاہتا اس کودیتا ہے (یعنی خداوند عالم اپنی مرضی کے مطابق کسی کو امام معیّن کرتا ہے۔ ٢۔اس طرح چاہیے کہ پیغمبر کو خداوندعالم سے تعیین کرائے اسی طرح امام کو بھی خداوند عالم تعیین کرتا ہے اور پیغمبر کے ذریعہ یا امام کے ذریعہ بعد والے امام کو تعیین کرتاہے پس معلوم ہوا کہ کبھی بھی لوگوں کی طرف سے امام تعیین نہیں ہوتاہے اور جس کو لوگ امام تعیین کرتے ہیں وہ خدا وند عالم کی طرف سے امام نہیں ہوتا ہے۔ ٣۔امام معصوم کو چا ہیٔے کہ تمام گناہ صغیرہ و کبیرہ سے پاک ہونا چاہیٔے۔ ٤۔امام معصوم تمام فضائل و امتیاز میں نبوت کے علاوہ سب برابر ہوتے ہیں اور یہ حقیقت ہے ان امور رسالت کو محفوظ رکھنا احکام کو جاری کرنا جو تمام امور اصلاحی دین اور دنیا کے اس امام کے عہدہ پر ہیں جو بہت سارے احادیث میں موجود ہے جسکو شیعہ اور سنی دونوں نے نقل کیا ہے حضرت رسول اکرم ۖ اپنے جانشینوں کی تعداد اور ان کے اوصاف کو بیان فرمایا ہے اور یہ سب قریش اور اہلبیت پیغمبر ۖ سے ہیں ،اور آن حضرت مہدی موعود بھی اہلبیت پیغمبر ۖ سے ہیںاور آخری امام ہیں چونکہ پیغمبراکرم ۖ نے مشخص کیا ہے،امامیہ معتقد ہیں کہ خداوند عالم پیغمبراکرم ۖ کو حکم فرمایا ہے کہ حضرت علی کو اپنے جانشین کے طور پر تصریحاََمعرفی کریں اور حضرت رسول اکرم ۖ کے پاس یہ پیغام پہونچااور آیت نازل ہوئی: ( یَاَیُّہَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا ُنزِلَ ِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ وَِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہُ وَاﷲُ یَعْصِمُکَ مِنْ النَّاسِ ِنَّ اﷲَ لاَیَہْدِی الْقَوْمَ الْکَافِرِینَ )(١) اے میرے رسول جس چیز کو خداوند عالم نے علی کی جانشینی معین کرنے کے لئے تمھارے پاس بھیجاہے اسے لوگوں تک پہو نچا دو اگر آپ نے یہ کام انجام نہ دیا گویا حق رسالت کو انجام نہیں دیا خدا وند عالم آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے ۔رسول اکرم ۖ جب حجةالوداع سے واپس ہوئے تو غدیر خم میں اعلان کیا اور مولائے کائنات کی امامت اور خلافت کو لوگوں تک پہونچادیا ،علمائے شیعہ و سنی دونوں کی طرف سے جو دلیل آئی ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ ائمةالاسلام بارہ ہوں (١)سورہ مائدہ آیت ۔٦٧ اور ان کے اسمائے گرامی ترتیب کے ساتھ درج ذیل ہیں

VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR