حضرت آیۃ اللہ دوزدوزانی مدظلہ کا پیغام عید غدیر خم کے پرمسرت موقع پر

بسم اللہ الرحمن الرحیم

(یہ پیغام اصفہانی مومنین کے سوالات کے پس منظر میں بیان ہوا ہے)
الحمد للہ الذی جعلنا من المتمسکین بولایۃ علی بن ابی طالب امیر المومنین و اولادہ المعصومین علیہم السلام۔
بعد از عرض سلام و تحیت آپ تمامی مومنین کی کامیابی و کامرانی کا طالب ہوں اس پر مسرت موقع پر آپ تمامی حضرات کی بارگاہ میں چند اہم مطالب پیش کرنا مقصود ہے۔

۱۔ بیشک جہان بشریت میں عید مبعث اور غدیر خم دو نقطۂ عطف ہیں لیکن نہایت افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ ابھی تک ان دو مناسبتوں کا جشن اس طرح نہیں منایا گیا جیسا حق تھا ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ہم عید مبعث حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور عید غدیر خم کے پر مسرت موقع پر عالم انسانیت کو خواب غفلت سے بیدار کریں ان دو مبارک دنوں کو صرف مسلمانوں سے مخصوص نہ جانیں بلکہ ساری انسانیت کو ان کے فوائد و نتائج سے آگاہ کریں۔
ان ایام میں عالمی جشن مسرت کا انعقاد کیا جانا چاہئے بالکل اسی طرح جس طرح عیسائی حضرت مسیح کی ولادت کے موقع پر اپنے سارے اختلافات بالائے طاق رکھ کر جشن کا اہتمام کرتے ہیں۔ انہوں نے اس دن کی ترویج و تشہیر میں کوئی کسر نہ چھوڑی یہاں تک کہ اسلامی ممالک کے وزراء اور صدر بھی اپنے ہم رتبہ افراد اور اس مذہب کے ماننے والوں کو تبریک و تہنیت پیش کرتے ہیں۔
ان تمام چیزوں کو دیکھنے کے بعد اگر یہ بات کہی جائے تو غلط نہ ہوگی کہ اب تک عید مبعث اور عید غدیر خم کے آفاقی پیغامات روشن نہ ہونے کے اصل قصوروار ہم ہیں۔ یہ ہماری کوتاہی اور کم دلی کا نتیجہ ہے ستم بالائے ستم تو یہ ہے کہ ہمارے ایران میں بھی ان دو عیدوں کا اہتمام اس طرح نہیں ہوتا جس طرح ہونے کا حق ہے ان امور میں کوتاہیاں ہمارے سماج اور معاشرے کے لئے باعث ضرر ہے۔
کیا یہ جفا نہیں ہے کہ شیعی ملک میں حضرات عید نوروز کے اہتمام میں اس قدر سرگرم ہوجائیں کہ روز مرہ کی زندگی متاثر ہوجائے اور ختم نہ ہونے والی تعطیلات کا ایک سلسلہ قائم رہے لیکن غدیر کا جشن چند منٹوں اور لمحوں میں ختم ہوجائے۔
۲۔ وہ پروگرام اور جلسات جو ان مناسبتوں میں منعقد ہوتے ہیں ان میں ایسے علمائے اعلام اور باوثوق افراد کو دعوت دی جائے جو تاریخ اور سیرت امیر المومنین علیہ السلام سے اچھی طرح آگاہ ہوں تاکہ سامعین اور حاضرین کی عرفانی تشنگی بجھائی جاسکے۔
۳۔ بہت زیادہ تاکید کے ساتھ یہ بات عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اس طرح کے جلسات میں زیادہ تر وقت معارف اور حقائق کی آگاہی کے لئے وقف کیا جائے، صرف شعر و شاعری پر یہ جلسات اختتام پذیر نہ ہوں، ذاکرین اور شعراء سے بھی استدعاء ہے کہ اس طرح کے اشعار پڑھیں جو ائمہ علیہم السلام کی سیرت طیبہ کی عکاسی کرتے ہوں کیونکہ ہمیں لوگوں کے اوقات کے سلسلہ سے خدا کے سامنے جوابگو ہونا پڑے گا۔
امید یہ کرتا ہوں کہ آپ تمامی موالیان حیدر کرار کی انتھک کوشش اور بے دریغ خدمات کے نتیجے میں اس عید اکبر کی عظمت کے ناگفتہ گوشہ عیاں ہوں گے اور اس کی جذابیت میں اضافہ ہوگا۔

(ذی الحجہ ۱۴۲۸ ہجری قمری، مطابق دی ماہ ۱۳۸۶ ہجری شمسی)

 

VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR