مجلۂ پگاہ سے انٹرویو

تعلیم و تربیت

۱۳۸۲، ۱۳۸۳ ہجری شمسی میں نئے تحصیلی سال کے افتتاحیہ کے موقع پر حضرت آیت اللہ العظمیٰ دوزدوزانی سے مجلہ پگاہ کا انٹرویو

 


سوال: نئے تحصیلی سال کے آغاز پر آپ طلاب علوم دینیہ کے تحصیلی اور تعطیلی ایام کو کن جہات سے مقایسہ کریں گے؟
جواب: جیساکہ آپ جانتے ہیں کہ تحصیل یعنی یہ کہ انسان اپنی جہالت دور کرے اور انہیں معلومات میں تبدیل کرے اور یہ کہ تحصیل اور تعطیل میں کیا فرق ہے؟ اس سلسلہ میں تو یہ کہنا مناسب ہوگا کہ اگر طالب علم واقعاً طالب علم ہے تو اس کے لئے تحصیلی ایام اور تعطیلی ایام میں کوئی فرق نہیں ہے یعنی اگر کوئی علم حاصل کرنے کی فکر میں ہے اور عالی درجات تک پہونچنا چاہتا ہے، مشکلات اور مجہولات کو حل کرنا چاہتا ہے تو وہ وقت نہیں دیکھتا ہے اس کے لئے دن رات، جمعرات جمعہ، تحصیلی ایام تعطیلی ایام، محرم و ماہ رمضان، جوانی و پیری، مشکلات اور دیگر چیزوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ میرے خیال میں عاشق علم کے لئے کوئی بھی چیز مانع نہیں ہوسکتی۔ صحیح معنوں میں حقیقی طالب علم وہ ہے جسے تحصیل علم سے عشق ہے میرے خیال میں کوئی بھی چیز اس کے لئے سد راہ نہیں بن سکتی۔ مجھے یاد ہے کہ جس زمانے میں، میں نے علوم دینیہ کی تحصیل کا آغاز کیا تھا تقریباً ۵۵/ سال پہلے میں نے مقدمات کو شروع کیا تھا، اکثر راتوں کو کھانا نہیں کھاتا تھا یا بہت کم مقدار میں کھاتا تاکہ میرے لئے زیادہ سے زیادہ بیدار رہنے کے امکانات فراہم ہوسکیں۔ جو کام ہوتا تھا انہیں لکھ لیتا تھا پھر جمعرات یا جمعہ کو صبح سے ہی انہیں انجام دینے کے لئے کوشاں رہتا تھا۔ بقیہ راتوں کو صرف مطالعہ کرتا تھا۔ مجھے یاد ہے ۵۲ یا ۵۳ سال پہلے میں کسی درسی مطلب کو ڈھونڈ رہا تھا، ڈھونڈتے ڈھونڈتے حاشیہ جامی میں بالآخر اس مطلب کو پا لیا۔ میرا اپنا وطیرہ تھا کہ غیر درسی امور کو جمعرات یا جمعہ کو انجام دوں۔ ۵۰ سال پہلے جب میں یہاں آیا تھا تو مقدمات کو تمام کرچکا تھا آتے ہی میں نے بعض طلاب کو سیوطی کا درس دینا شروع کیا لیکن اس وقت منطق سے بہت زیادہ واقفیت نہیں تھی قاعدتاً سیوطی کے بعد جامی اور حاشیہ ملا عبد اللہ کا درس دینا تھا۔ ایک دن اپنے استاد سے میں نے کہا: تعطیلات کا انتظار کررہا ہوں۔ انہوں نے کہا: کیوں؟ میں نے کہا: منطق کا ایک دور اچھی طرح سے پڑھنا چاہتا ہوں شمسیہ اور شرح مطالع کے کیا نظریات ہیں و۔۔۔ میں اس میں کامیاب رہا۔ اس سال گرمیوں میں قم میں ہی رہا اور منطق کا ایک دورہ اتمام کیا پھر پڑھائی کے دنوں میں منطق کی تدریس شروع کردی۔
میں تمام عاشقان علم اور طالبان علم کو وصیت کرتا ہوں کہ تحصیل علم اور رفع جہل کی لذت کا بھرپور فائدہ اٹھائیں اگر انسان اس لذت کو محسوس کرلے تو خود اپنی پیشرفت کا دیدار کرے گا۔ لیکن امان اس دن سے کہ جس دن انسان جہالت جیسی خطرناک بیماری سے ناآشنا ہو۔ اگر انسان صرف اتنا جان لے کہ جہالت ایک بیماری ہے وہ اپنی بیماری کا علاج کرلے گا اور خود بخود اس کا حل تلاش کرے گا۔ موجودہ زمانے میں سب جانتے ہیں کہ مشکلات زیادہ ہیں جیسے فکری، سیاسی، سماجی اور مادی مشکلات وغیرہ اس میں کسی قسم کا شک نہیں ہے کل کا انسان اگر ایک روٹی پا جاتا تھا تو اسی پر قناعت کرکے اپنی تعلیم جاری رکھتا تھا۔ آج مشکلات زیادہ ہیں انہیں دور کرنے کے لئے میرا اپنا عقیدہ ہے کہ تحصیل علم سے عشق کر جو خود علم میں اضافہ کا سبب ہے۔ طالب علم خود فیصلہ کرے کہ اسے کیا کرنا ہے، کس طرح موانع کو دور کرے یعنی موانع اس پر اثر انداز نہ ہوں بلکہ وہ موانع پر اثر انداز ہوجائے اور انہیں گھیرے میں لے لے۔
جس زمانے میں، میں قم میں آیا تھا اپنی تعلیم کو دو طرح کے دنوں میں تقسیم کردیا۔ ایک تحصیلی ایام میں دوسرے تعطیلی ایام میں (چھٹیوں کے دنوں میں) منظومہ، منطق، مطول، قوانین، شرح تجرید جیسی کتابیں پڑھائی جاتی تھیں ان دنوں جب کہ میں شرح تجرید پڑھ رہا تھا باب حادی عشر کی تدریس بھی کررہا تھا۔ قم آتے ہی پہلے سال سے ہی جمعرات اور جمعہ کو تفسیر کا درس دینے لگا جو ۵۰/ سال سے ابھی تک جاری ہے جس سے متعلق متعدد کتابچہ چھپ چکے ہیں جن میں سے ایک "حول نزول القرآن" ہے اور دوسرے کتابچہ کا نام برزخ ہے جو چھپتے ہی تمام ہوگیا اور اِس وقت نایاب ہے۔ ان کتابوں کو میں نے جمعرات کی چھٹیوں میں لکھا ہے ان باتوں کا ذکر کرنے کا مقصود یہ ہے کہ میں نے اپنے وقت کو ضائع نہیں کیا لیکن افسوس ہے ان طلاب پر جو تعطیلات میں اپنے وقت کو ضائع کرتے ہیں چونکہ انہوں نے اپنے لئے دوراہ کا انتخاب نہیں کیا کہ اگر ایک راستہ بند ہو تو دوسرے کا انتخاب کریں۔
میں آج کے طلاب کو نصیحت کرتا ہوں کہ قدیم طلاب کی درس و تدریس کی روش اپنائیں۔ حوزہ کے ابتدائی سال میں لمعہ کا درس دینا شروع کیا غروب سے دو گھنٹہ پہلے فیضیہ جاتا تھا اور ایک منٹ بھی بیکار نہیں بیٹھتا لیکن ان دنوں اتفاقاً اگر کبھی فیضیہ کی طرف سے گذر ہوا تو میں نے محسوس کیا ہے کہ اب وہ بات نہیں رہی۔ ایک دن مرحوم علامہ طباطبائی سے متعلق ایک کانفرنس مدرسۂ دار الشفاء میں تھی۔ فیضیہ سے گذرا تو اس چیز کا احساس ہوا کہ قدیم روایت کے مطابق اب وہ شوق و جذبہ نہیں رہا اگر حقیقی طالب علم بننا ہے تو شروع سے ہی صحیح راستہ کا انتخاب کرنا ہوگا۔
اگر انسان خود ہی پکائے اور خود ہی کھائے تو اسے اپنی کمی و زیادتی کا احساس نہ ہوگا لیکن اگر خود پکاکر دوسروں کو کھلائے تب اسے بہتر اندازہ ہوسکتا ہے کہ خامیاں کیا ہیں۔اپنے بزرگوں سے درخواست ہے کہ اس مسئلہ پر خاص توجہ دیں، طلاب کو تشویق کریں اور انہیں ترغیب دلائیں صرف ان سے امتحان یا تحقیقی نوشتہ ہی ان سے طلب کرنا کافی نہیں ہوگا جبکہ حوزہ کی پیشرفت کے لئے یہ امور بھی مفید ہیں۔

 

سوال: جنابعالی نے جو یہ فرمایا کہ عاشق علم بنیں کیا عشقِ علم کا کچھ حصہ ذاتی ہے یا سب اکتسابی ہے؟ جنبۂ اکتسابی کی صحیح جہت کو بیان فرمائیں؟
جواب: چالیس سال پہلے اسی موضوع پر تبریز میں چند افراد نے مقالہ لکھا تھا کہ کیا نوابغ (تیز ہوش افراد) کا نبوغ ذاتی ہے یا اکتسابی؟ انہیں میں ایک صاحبہ نے بھی قلم فرسائی کی تھی جو قابل توجہ تھی۔ اسی زمانے میں میرا موضوع بحث بھی یہی تھا۔ میرا ماننا یہ ہے کہ نبوغ دو طرح کا ہے۔ نہ فقط ذاتی ہے نہ فقط اکتسابی ہے یعنی جو کچھ بھی انسان کے وجود میں عطا کیا گیا ہے اسے بروئے کار لائے۔
بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ انسان کے اندر تحصیل علم اور اس کے حصول کا شوق ذاتی طور پر نہ پایا جاتا ہو لیکن بعض نامناسب حالات اور غیر مناسب دوستانہ ماحول اس شوق کی تکمیل میں مانع ہوجاتے ہیں اور یہ عشق آہستہ آہستہ دگرگون ہوجاتا ہے۔ میرے مشاہدہ میں اکثر طالب علم، علم دوست ہیں اور انہیں ان کا عشق کھینچ کر لاتا ہے اب اساتید کی ذمہ داری ہے کہ ان کے ذوق و شوق کی تشویق اور ان کے جذبہ کو زیور علم سے آراستہ کریں۔ بعض اوقات میں مطالب کو ادھورا بیان کرتا ہوں اور طلاب سے کہتا ہوں انہیں مکمل کرکے لاؤ۔ شاید وہ یہ سوچتے ہوں کہ میں اس مطلب سے واقف نہیں جبکہ ایسا نہیں ہے۔ اگر وہ لکھ کر لاتے ہیں تو ان کی تشویق کرتا ہوں اگر نہیں لاتے تو گلہ بھی نہیں کرتا۔ بعض اوقات حوزہ میں طلاب کی تشویق نہیں ہوتی بلکہ پڑھنے اور نہ پڑھنے والے طلاب کو ایک نگاہ سے دیکھا جاتا ہے یہی وہ جگہ ہے جہاں میں کہتا ہوں نبوغ ذاتی بھی ہے اور اکتسابی بھی۔ یہاں پر میں حوزۂ علمیہ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ جس نے ممتاز اساتید، ممتاز شاگرد، ممتاز معلم اور ممتاز مقالہ کی تشویق میں ایک نیا قدم اٹھایا ہے یہی وہ چیز ہے جو آئندہ نسل کی پیشرفت میں کارآمد ثابت ہوگی۔

 

سوال: کیا اس ذوق کی تکمیل کے لئے حوزہ کے نظام کو درست چاہئے یا خود شخص اپنے تعلیمی شوق کا منظم دستور العمل بنائے۔
جواب: انسان دو طرح کے ہیں؛ اکثریت ایسی ہے جن کی بہترین تربیت کی جاسکتی ہے اور ان میں یہ لیاقت بھی ہے ایسے لوگوں کے لئے حوزۂ علمیہ کو ایک صحیح دستور العمل بنانے کی ضرورت ہے لیکن بعض افراد ایسے ہیں جن کے لئے جداگانہ دستور کی ضرورت ہے اور ان کی حتی الامکان تشویق ہونی چاہئے چونکہ ایسے افراد خود ساختہ ہوتے ہیں ان کی انپی منطق ہوتی ہے وہ اپنے سوچے پر عمل کرتے ہیں، اپنے مطالعہ، تحریر، تحقیق پر ہی بھروسہ کرتے ہیں اگر آپ نے ان کو خوب سمجھ لیا ہے کہ وہ ایک سال میں سات آٹھ مطالب سے زیادہ ہضم نہیں کرسکتے تو ان کے لئے ایک منظم آئین اور دستور بنائیں جن کے ذریعے ان کی مدد ہوسکے۔ بعض ایسے بھی بزرگ گذرے ہیں جنہوں نے استاد نہیں دیکھا اور نابغہ بھی تھے جیسے مرحوم نراقی جن کا نبوغ ذاتی تھا مجھے یاد ہے جس وقت میں قم میں مکاسب پڑھ رہا تھا جس استاد کے پاس جاتا قانع نہیں ہوتا تھا ایک دن میرے کسی دوست نے کہا فلاں جگہ فلاں استاد مکاسب کا درس دے رہے ہیں میں وہاں جانے، چار مہینہ میں مکاسب (خیار حیوان) کو تمام کیا استاد کو بھی اس بات کا اندازہ ہوگیا کہ یہ شاگرد سمجھ رہا ہے لہٰذا خود ساختہ انسان خود استاد کی تلاش میں نکلتا اور اس سے بھرپور استفادہ کرتا ہے۔

 

سوال: آپ نے فرمایا کہ اکثر افراد کو ایک جہت کی طرف لے جایا جاسکتا ہے لیکن اگر یہی لوگ خود سازی اور تحصیل دونوں کو جمع کرنا چاہیں تو یہ کیسے ممکن ہے؟
جواب: اس سوال کی یہ جگہ نہیں ہے میں نے کہا کہ خود ساختہ افراد نادر ہیں۔ خود ساختہ افراد کو نہ قید کیا جاسکتا ہے نہ تو آزاد چھوڑا جاسکتا ہے۔ پرانے زمانے میں بچے کھیل میں یا یہ کہتے تھے کہ: میں ان کے ساتھ ہوں یا یہ کہتے تھے کہ میرے ساتھ کون ہے یعنی یہ دوسرا اس بات کا منتظر ہے کہ لوگ اس کی طرف آئیں نہ یہ کہ وہ ان کی طرف جائے یہی چیز تھوڑی سی ذاتی ہے ایسے نبوغ کو مہار کرنا مشکل ہے چونکہ وہ اپنا راستہ طے کررہا ہے اپنے کام کو انجام دے رہا ہے، مطالعہ بھی کررہا ہے اور پڑھ بھی رہا ہے لیکن بعض ایسے بھی ہیں جو بہت محنت کرتے ہیں لیکن نتیجہ تک نہیں پہنچتے ایسے ہی لوگوں کو جہت کی نشاندہی کی ضرورت ہوا کرتی ہے ان کے لئے استاد، درس اور وقت معین کرنے کی ضرورت ہے۔ خود ساختہ افراد بہت نادر ہیں شاید ہزار میں ایک ہوں اسے کسی کی ضرورت بھی نہیں ہوتی البتہ یہ خیال رہے کہ اس کے آس پاس سودجو اور مطلب پرست افراد بھٹکنے نہ پائیں۔

 

سوال: کیا یہ ممکن ہے کہ خود ساختہ افراد کی خام خیالی ہو کہ جو کچھ اپنے اندر دیکھ رہا ہو وہ فریب ہو اور یہ چیز اس کے لئے درد سر ہوجائے؟
جواب: خود ساختہ افراد میں ایسی صلاحیت ہے جس کے ذریعہ وہ آگے بڑھتے ہیں البتہ ایسے افراد خطرات سے دوچار بھی ہوتے ہیں۔ بعض اوقات دیکھا گیا ہے کہ فلاں صاحب کی فلاں جگہ تکفیر کیوں ہوئی؟ خود ساختگی اور اطمینان کی وجہ سے وہ آگے بڑھتا گیا اور ایک مقام پر پہونچ کر بے خود ہوگیا اور حدود ٹوٹ جاتے ہیں لہٰذا انہیں استاد کی ضرورت ہے مثلاً مرحوم شیخ ہادی تہرانی نابغہ تھے اور اس حد تک خود ساختہ اور اعتماد نفس کے مالک تھے جو بات کہتے تھے لوگ اسے اپنے اعتبار سے قبول کرلیتے تھے ایسے افراد کی بھی راہنمائی کی ضرورت ہے۔ بعض اوقات انسان اپنے پر اعتماد کرتا ہے اور منبر پر جاکر جو دل کہتا ہے بیان کردیتا ہے بعد میں کوئی دل سوز دوست یہ کہتا ہے کہ جناب یہ گفتگو آپ کی شان کے خلاف ہے اور یہاں مناسب نہیں تھی۔ چونکہ خود پر اعتماد ہے لہٰذا وہ دوسروں کی باتوں پر دھیان نہیں دیتا اور یہی چیز اس کے لئے نقصان دہ ہوجاتی ہے۔ لہٰذا ایک انسان کو ایک اچھے استاد اور لائق دوست کی ضرورت ہے اور خود بھی اس امر کی طرف متوجہ ہو۔ موجودہ تاریخ کا مطالعہ کریں بہت سے ایسے افراد ملیں گے جو دوسرں کی بات نہیں سنتے چونکہ اپنے آپ کو ہر ایک سے بالا و برتر سمجھتے ہیں یہ ایک ظریف نکتہ جس کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے۔

 

سوال: آپ کی نگاہ میں ابھی تک حوزۂ علمیہ کے مسئولین، ناظرین اور دیگر زحمت کش افراد کی کار کردگی کیسی ہے؟
جواب: اس سلسلہ میں مجھے زیادہ معلومات نہیں ہے لیکن مسئولین سے ایک گلہ ہے کہ اخلاق و تہذیب کی طرف زیادہ توجہ نہیں ہے۔ میں نے بارہا کہا ہے کہ حوزہ و دانش علم کو نمبر دیتا ہے جبکہ تقویٰ، انسانیت، کمالات اور اخلاق کا بھی نمبر دیا جائے۔ تنہا علم کا نمبر نہ دیا جائے 100%، 90%، 80% فیصد اخلاقی نمبر حاصل کرنے والے ہی کو کام سونپا جائے۔ جن افراد میں تقویٰ اور اخلاق نہ ہو انہیں کام نہ سونپا جائے میری اطلاع کے مطابق بد اخلاق اور کم پڑھے لکھے لوگوں کو ہی منصب مل رہا ہے۔ یہ بہت نقصان دہ ہے۔ طالب علم اگر متقی ہے اور کم پڑھا لکھا ہے اگر اسے قاضی بنا دیا جائے تو وہ فتویٰ نہیں دے گا اگر اس سے سوال کیا جائے تو تقوے کی بناپر کہہ دے گا نہیں جانتا لیکن اگر متقی نہیں ہوگا تو وہ نقصان پہونچائے گا۔
آپ نے اپنا قیمتی وقت دیا جس کا ہم تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔

نشریہ پگاہ

 

VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR