مرجعیت کی توہین فتنہ ہے

بسمہ تعالیٰ

حضرت آیۃ اللہ العظمی دوزدو زانی مدظلہ اپنے درس خارج (یہ دروس حوزۂ علمیہ کے افاضل و برجستہ طلاب کے لئے بیان کئے جاتے ہیں) میں حضرت امام سید سجاد علیہ السلام سے مروی حدیث کی روشنی میں اس اختلاف کی جانب اشارہ فرمایا جو جمہوری اسلامی ایران میں صدارتی انتخابات کے بعد رونما ہوا۔

آپ نے حضرت سید سجادؑ کی حدیث کو بیان فرمایا کہ امامؑ فرماتے ہیں: "اللھم عمّرنی ما کان عمری بذلۃ فی طاعتک فاذا کان عمری مرتعاً للشیطان فاقبضنی الیک" میرے اللہ مجھے اس وقت تک زندہ رکھنا جب تک میری زندگی تیری اطاعت میں ہو لیکن جب یہ حیات شیطان کی چراگاہ بن جائے اس وقت مجھے اس دنیا سے اٹھا لینا۔
علمائے لغت نے لفظ "مرتع" کا معنی ایک ایسی چراگاہ کا کیا ہے جہاں بغیر کسی روک ٹوک کے داخل ہوا جاسکے۔ "فارسل غدا یرتع و یلعب، یرتع "یعنی یہ کہ آزادی کے ساتھ جس طرف جانا چاہے جائے اور چرے کوئی روکنے والا نہ ہو۔
گو کہ حضرت یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اگر شیطان میری زندگی پر اس طرح مسلط ہوجائے کہ جس راستے سے وہ چاہے میری زندگی میں داخل ہو اور جس سمت مجھے لے جانا چاہے لے جائے؛ خلاصہ یہ کہ میں شیطان کے ہاتھوں کا کھلونا بن جاؤں اس وقت مجھے موت آجائے تو بہتر ہے۔ یہ وہ مراد ہے کلام امامؑ سے لی جاتی ہے لیکن جہاں تک میں سمجھتا ہوں امامؑ کی مراد یہ ہے کہ اگر شیطان ایک ہی راستہ سے کئی بار میری زندگی میں داخل ہو اور میں اس کا مقابلہ نہ کرسکوں تو میری زندگی کا فائدہ نہیں موت ہی میرے حق میں بہتر ہے۔
اگر آج ہمارے سماج اور معاشرے پر ایک غائرانہ نظر ڈالی جائے تو یہ بات صاف سمجھ میں آتی ہے کہ شیطان کی جانب سے سماجی اختلاف ایک مؤثر عمل ہے۔ آج کے زمانے میں یہ چیز دیکھنے کو بہت ملتی ہے کہ دو دیندار افراد آپسی دشمنی کی صورت میں اپنے فرد مقابل کو نیچا دکھانے کی خاطر انتھک کوشش کرتے ہیں انہیں اس بات کی فکر ہرگز نہیں ہوتی کہ دشمن کی پسپائی کے لئے کون سا راستہ صحیح ہے اور کون سا غلط۔ بڑی بیباکی سے اپنے فرد مقابل کے سلسلے میں نازیبا کلمات ادا کرتے ہیں ساری فکر بس اس چیز پر مرکوز ہوتی ہے کہ کسی طرح اسے زیر کر دکھائیں۔
میں نے اپنے درس (لکچر) میں بارہا یہ بات بیان کی ہے کہ شیطان صرف ابلیس نہیں ہے بلکہ شیطان شرور ہے۔
موجودہ اختلاف جو ہمارے سماج میں رونما ہو رہے ہیں یہ صاف شیطانی چراگاہ کی عکاسی کرتے ہیں۔
اس باہمی اختلاف نے جہاں داخلی دشمنوں کو دعوت دی وہیں اغیار کی بھی لالچی نگاہوں کو ہماری جانب متوجہ کردیا ہے۔
یہ بات کوئی نئی نہیں کہ فتنہ انگیزی شیطان اور شیطان صفت انسانوں کی ایک دیرینہ عادت ہے۔
وہابیت جو شیطانی صفت انسانوں کا ایک مکمل ظہور ہے مسلسل چند برسوں سے شعائر اسلامی کو مورد ہجوم بنائے ہوئے ہے ان کے یہ ناپاک افعال جغرافیائی حدود نہیں پہچانتے۔
ان کی نظروں میں مقدسات کی بے حرمتی رچ بس گئی ہے اس کا عکس العمل کبھی کربلا میں دیکھنے کو ملتا ہے تو کبھی نجف اشرف اور بقیع کی پاک زمینوں پر۔
ایسی صورتحال میں ہمارے باہمی اختلاف نے اس شجر خبیثہ کی جڑوں کو اور مضبوط کردیا ہے ان کی گستاخیاں شیعوں کے تئیں اور بڑھ گئی ہیں،گذشتہ چند مہینوں میں آل سعود نے قطیف اور دمام اور الحساء میں شیعہ مساجد کو مسمار کرکے اپنی بے دینی کا ثبوت دیا ہے۔
آپ یہ نہ سوچئے کہ یہ سارے دلخراش واقعات اتفاقی طور پر پیش آئے ایسا بالکل نہیں ہے بلکہ یہ جرأت انہیں ہمارے اختلافات اور آپسی ٹکراؤ سے حاصل ہوئی ہے جب کسی قوم کے ذمہ دار افراد آپس میں ٹکرائیں گے تو اس کا نتیجہ اسی طرح قرطاس وقت پر رونما ہوگا اور یہ ظلم کا طوفان سعودی ریگزاروں کو عبور کرتے ہوئے یمن کی سرحدوں سے گذرے گا اور ان امواج کے شور میں ہمارے بزرگوں کی توہین صاف سنائی دے گی۔
کیا آپ نے نہیں سنا کہ کس گستاخانہ لہجے کے ساتھ عالمی مرجع حضرت آیۃ اللہ سیستانی کی توہین کی گئی۔ یہ علماء کی توہین ہماری غلطیوں کا نتیجہ ہے، کیوں ہماری میڈیا انہیں مرجع عراق سے تعارف کرواتی ہے؟ اسلامی نکتۂ نظر میں سرحدیں معنی نہیں رکھتیں یہ جو سرحدیں آج دنیا میں موجود ہیں کہ ہم ایک محدود زمین کو کویت، بحرین و۔۔۔ کہتے ہیں یہ انگریزوں کی پالیسی ہے انہوں نے دنیائے اسلام کو ٹکڑوں میں تبدیل کردیا ہے۔
یہ ہماری خواب غفلت تھی جس سے دشمن نے بھرپور فائدہ اٹھایا لیکن کیا کیا جائے ہم آج بھی خوابِ غفلت میں ہیں اور دشمن ہمارے خلاف لائحۂ عمل تیار کررہا ہے۔
کیا یہ بات معقول ہے کہ حضرت آیۃ اللہ سیستانی کی توہین کی جائے اور ہم طلاب علوم دینیہ خاموش بیٹھے رہیں؟ حوزات علمیہ کے لبوں پر مہر سکوت لگی رہے؟ کسی قسم کا کوئی ردّ عمل نہ ہو؟
اگر آج اس ناپاک قدم کو نہیں کاٹا گیا تو وہ دن دور نہیں جب یہ قدم دیگر مقدسات اسلامی کو پائمال کرنے کے لئے پہلے سے زیادہ محکم اور استوار ہوجائے گا۔
آج اس ناگفتہ بہ حالات میں قوم کا ہر فرد شیطانی چراگاہ بنا ہوا ہے اس طرح کہ اختلاف ہمیں کمزور اور دشمن کو پہلے سے زیادہ طاقتور بناتے جارہے ہیں کیونکہ دشمن اس چیز کو بخوبی سمجھ چکا ہے کہ اس کا کوئی دندان شکن جواب دینے والا موجود نہیں ہے۔
اگر یہی صورتحال رہی تو ہماری حالت بد سے بدتر ہوتی جائے گی، دور دور تک کوئی امید کی کرن نظر نہیں آرہی ہے ہر طرف سیاہ بادل چھائے ہوئے ہیں۔
بارگاہ ایزدی میں دعاگو ہوں کہ وہ ہمیں یہ توفیق عنایت فرمائے کہ ہم اپنے وظائف پر عمل کرسکیں۔
و السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR