عزاداری و شعائر محرم

بسمہ تعالی

بخدمت اقدس دنیا ئے شیعیت کے مرجع عظیم الشان
حضرت آیت اللہ العظمٰی یداللہ دوز دو زانی مدظلہ العالی
تحیت وسلام اور صحت وسلامتی کی آرزو کے ساتھ جنابعالی کی خدمت میں عرض ہے کہ مندر جہ ذیل سوالات کے بارے میں اپنے بیانات مرقوم فرمائیں تاکہ عوام اس سے مستفیذ ہوسکے .

1. مذہبی شعائر ونشانیوں کی تعظیم کے حوالے سے جنابعالی کی کیا نظر ہے ؟
2. کیا معصومین کی عزاداری کا شمار بھی مذہبی شعائر میں ہوتا ہے ؟
ہم صمیم دل سے آپ کے شکر گزار ہیں
فقط والسلام جنابعالی کے چند مقلدین


بسم اللہ الرحمن الرحیم

وصلی اللہ علیٰ سیّدنا محمدوآلہ الطاہرین سیّما بقیۃ اللہ فی الارضین عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف واللعن الدائم علی اعداۂم اجمعین .
شعائر ونشانیوں کی یاد تازی کرنا اور تعظیم اور احترام کرنا ہر مسلمان کاوظیفہ ہے .
قرآن کریم میں آیا ہے : (ومن یعظم شعائر اللہ فانھا تقوی ٰ القلوب ’’
اور جوبھی اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے گا یہ تعظیم اس کے دل کے تقویٰ کا نتیجہ ہوگی ۔
مقدمہ کے طور پر یہ کہنا ضروری ہے کے دین اسلام کے دو بعد ہیں ،درونی اور بیرونی ،درونی وباطنی بعد ، عقاعد اور قوانین اور احکام کے قبول کرنے وتسلیم کرنے سے متعلق ہے اور اس کا بیرونی وظاہری بعد اس کے شعائرو نشانیاں ہیں ۔ ہر وہ چیز جو خداوند متعال کے آیت ونشانی ہو اور جب بھی اسے یاد کیا جائے تو خدا یاد آئے اسے شعائر کہا جاتا ہے .
شعائر کی تعظیم اور احترام کرنا اور اس کی یاد تازی کرنا یہ وہ وظائف ہیںجو خدا وند متعال کی طرف سے مقرر ہوے ہیں ۔
مذ کورہ بیان سے معلوم ہوا کہ امام حسین علیہ السلام اور ان کے عملی کردارکی یاد بود، اللہ کی بزرگ نشانیوں میں سے ہے . اور ایک منفی انسان کو چاہئے کہ اس کی عظمت کو ملحوظ خاطر اور محفوظ رکھے ۔ اور یہ عظمت تب محفوظ رہیگی جب ہم عزاداری برپا کریں اور امام حسین علیہالسلام کہ فضائل ومناقب وقیام کی علل واسباب کو بیان کریں ۔ لوگوں کو بتائیں کے امام حسین علیہ السلام نے حکمرانوں کے ظلم وجور کا خاتمہ کرے : امر با المعروف ونہی از منکر اور اقامہ نماز کے لئے قیام کیا تھا ۔
اوریہی وجہ ہے کے رسول اکر م (ص) نے فرمایا : ’’ حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں اس کا مطلب یہ ہے کے دین اسلام کی ابتداء وسرآغاز پیغمبر اکرم (ص) کی ذات سے بھی اور اسکی بقا اور سر انجام اور انحرافات سے محافظت امام حسین علیہ السلام کی قیام اور انکی شہادت سے وابستہ ہے در حقیقت امام حسین علیہ السلام نے اسلام کو ودبارہ زندہ کردیااور اس اصلی مسیر کی طرف پلٹادیا کے ہم اسلام کی ابتداء وابقاء کو دو ہجرتوں کے برائیکٹ میں پیش کر سکتے ہیں کہ اس کے ایک طرف پیغمبر اکرم (ص) کی ہجرت ہے جو مکہ سے مدینہ کی طرف ہوئی اور دوسری طرف امام حسین علیہ السلام کی ہجرت ہے جو مدینہ سے مکہ او پھر کر بلائے معلی کی طرف ہوئی ۔
مسلمانوں کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہئے ہم صرف نعرے بازی اور زبانی دعوے کے ذریعہ ، شعائر اور نشانیوں کو زندہ اور اسکی عظمت کو برقرار نہیں رکھ سکتے ہیں ، بلکہ ا س کے لئے ہمہں امام کہ راستہ پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے سب سے پہلے عزا داروں کو چاہیے اقا مہ اہتمام کریں ظلم کا مقابلہ کریں ، دوسروں پر ظلم نہ کریں ،اپنے سماجی و ظیفوں و ذمہ داریوں پر عمل کریں مثلا شرعی حقوق کو ادا کریں سخاوت کا اظہار کریں ، امربہ معروف و نہی از منکر کریں مختصر یہ کہ اس راہ و روش کو اختیار کریں جس پر امام حسین علیہ السلام گامزن تھے ۔
میں صراحت کے ساتھ عرض کر رہا ہوں کہ امام حسین علیہ السلام کا قیا م کرنا اور یزید ملعون کی بیعت نہ کرنے اور اعوان انصار کہ ساتھ شھادت کو گلے لگانا . اور اپنے ناموس کی اسیری و در بہ دری اور انہیں شہر بہ شہر کربلا سے شام تک تشہیر کیا جانا قبول کرنا ، صرف اسلئے تھاکہ آنے والے زمانے میں بیدار انسان حضرت کے عمل سے وا قفیت حاصل کر نے کے بعدمنقلب ہو جائیں اور زندگی کے صحیح راستہ اور مذہب حق کو اختیار کریں ۔ امام حسین علیہ السلام اس عمل کو جس طرح ممکن ہو خواہ قلم سے ہو یا زبان سے ، یا جلوس نیکالنے سے ہو یا سینہ زنی کہ دستوں کو روڈ پر لانے سے ، ساراسماج کہ لیئے روشن کرنے کی ضرورت ہے ۔ اور چاہیئے کہ اسے زندہ رکھا جائے اور روز بروز اسے زندہ رکھنے کے زیادہ سے زیادہ اہتمام کیا جائے۔
آخر میں دو مطلب کی طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں ۔ پہلا مطلب ۔ علماء و فضلاء اور مبلغوں کو چاہیئے کہ جوانوں کو دشمنوں کی انحرافی و گمراہ کن تبلیغات سے آگاہ کریں اور پھر خبردار کریں ہمارے پاس امام حسین علیہ السلام اور انکے پدر بزرگوار او دیگر ائمہ علیہم السلام جیسے پیشوا ، رہنما اور چراغ ہدایت ہیں ،ہر گز اپنے د ین و مذہب میں سستی
کے شکار نہ ہوں اور دوسرے بے بنیاد مذہب کی طرف مایل نہ ہوں ، ایک عاقل انسان کبھی بھی غیر عقلائی اور بے بنیاد مذہبوں کی طرف مایل نہی ہوتا ہے۔مثال کہ طور فرقہ ضالہ وہابیت جو عراق افغانستان اور پاکستان میں دہشت اور قتل و غارت کا سبب بنا ہوا ہے اور انکی داستانیں کہنیوں تک شیعوں کے خون سے آغشتہ ہے ، عجب نہیں کہ یہ سب حضرت سید الشھدا علیہ السلام کہ قاتلین اور ان کے تابعین کی نسل کہ باقی ماندہ افراد ہوں ۔
ایک عاقل انسان جو امام حسین علیہ السلام جیسے رہبر کا پیرو ہووہ عبدالبھا ء جیسے شخص کی طرف مایل ہوسکتاہے یا اپنے اعتقادات میں سستی کا شکار ہو سکتا ہے ، ہرگز نہیں اسلیئے کہ یہ شخص فرقہ بہائیت کا موجد ہے جس نے ممالک کفر کی تحریک پر یہ تازہ دین بنایا ہے۔
بیشک وہ شخص جو امام حسین علیہ السلام اور انکی شخصیت کی معرفت رکھتا ہے اس کے ذہن میں تصور بھی نہیں آسکتا کہ وہ ان بزرگواروں کہ صراط مستقیم سے منحرف ہو کر دائیں بائیں نظر کرے ۔ دوسرا مطلب ۔ یہ خطیبوں اور مبلغوں کو سفارش کرتا ہوں کہ وہ دینی اور سماجی دردوں کو درک کریں اور اپنی گفتگو و تقریروں کا موضوع ان دردوں کو قرار دیں
اور شبہات کے جواب کے لئے اہلبیت عصمت و طہارت علیہم السلام کی تعلیمات کو محور قرار دیں اور صرف پہلے سے آمادہ کیئے ہوے مطالب پر اکتفاء نہ کریں۔ ہمارے مولی حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام ، حضرت پیغمبر اکر م (ص) کا تعارف کراتے ہوے فرماتے ہیں:(’’طبیب دوار بطبہ قد احکم مراہمہ و احمتی مواسمہ یضع من ذلک حیث الحاجۃالیہ’’) یعنی حضرت اکرم (ص) لوگوں کی معنوی مشکلات کو بر طرف کرنے اور سماج کی دشواریوں کو حل کر نے کے لیئے ہر شخص و سماج کہ حال کے مطابق نسخہ و روش کو تجویز فرماتے تھے ۔
اور آخر میں خداوند متعال سے اپنے مولا امام زمان علیہ السلام کہ ظہور میں تعجیل کی دعا کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ خداوند متعال ہم لوگوں کو حضرت سید الشہدا ء علیہ السلام کا واقعی شیعہ قرار دے ۔
فقط والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

 

VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR