الحمد للہ رب العالمین و الصلاۃ و السلام علی اشرف الانبیاء و المرسلین محمد و عترتہ الطیبین الطاہرین و اللعنۃ الداءمۃ علی اعداءہم اجمعین

الحمد للہ رب العالمین و الصلاۃ و السلام علی اشرف الانبیاء و المرسلین محمد و عترتہ الطیبین الطاہرین و اللعنۃ الداءمۃ علی اعداءہم اجمعین
قبل اس کے آج ہم اپنی بحث کا آغاز کریں مناسب یہ ہے کہ سب سے پہلے اس سانحہ اور حادثہ جس کا درد و رنج ہر روز روز قبل سے شدید ہوتا ہے آپ تمام حضار و نیز تمام مسلمانوں بالخصوص امام عصر حضرت بقیۃ اللہ الاعظم عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی خدمت میں تسلیت و تعزیت پیش کریں ۔

بے شک یہ مظاہرے اور اجتماع اور یہ اعتراض پر مشتمل اعلانات و بیانات بے اثر نہیں ہیں لیکن سوال یہ کہ آیا یہ اقدامات کافی ہیں؟ جیسا کہ آپ تمام حضرات مطلع ہیں کہ شیعہ و مسلم مخالف جماعتیں جو بنام سلفی و وھابیت ہر روز اپنی دہشت گردی کا مظاہرہ کر رہی ہیں یہ دہشت گرد تنظمیں مسلمانوں کو بھیمانہ انداز میں موت کے گھاٹ اتار رہی ہیں ان کی دہشت گردی کسی خاص جغرایایی خطہ سے مخصوص نہیں ہے آپ سوریہ و عراق و پاکستان پر نظر کریں جہاں بھی ان دہشت گردوں کی رسایی ہے یہ انسان و اسلام دشمن عناصر قتل و غارت میں مصروف ہیں جس وقت ہم پاکستان میں موجودہ صورت حال کو دیکھتے یا سنتے ہیں تعجب کی ساری حدیں ختم ہوجاتی ہیں کہ کس طرح انسانوں کے سروں کو انتہایی بے دردی کے ساتھ جدا کیا جاتا ہے آیا ان تمام مظالم کو سننے اور دیکھنے کے بعد ہمارا وظیفہ صرف اس حد تک ہے کہ ہم خاموش بیٹھ کر کف افسوس ملیں؟ آیا ظالم کے ظلم کو محکوم کرنے کے لءے اس سے زیادہ کی ضرورت نہیں ہے؟ اس میں کوءی شک نہیں کہ حکومت کے ھاتھ اس تییں کھلے ہوءے نہیں ہیں بے شک مصلحت نہیں ہے کہ ملکی پیمانے پر جنگ شروع کی جاءے کیوں کہ اس صورت میں تیسری عالمی جنگ کا آغاز ہوگا جو ہمارے دشمن کی ایک دیرینہ خواہش ہے لیکن کیا انفرادی یا گروہی قیام سے بھی ہم معذور ہیں ؟ بعض ذرایع سے معلوم ہوا ہے کہ تقریباۡ چالیس ہزار افراد پر مشتمل سلفی و اسلام و شیعہ دشمن یھودیوں کا ایک گروہ مشرقی سمت روانہ کیا گیا ہے ۔ کیا ایسی صورت حال میں ہمارا وظیفہ نہیں ہے کہ ہم بھی ایک حکمت عملی تیار کریں کیا اس وقت ضروری نہیں ہے کہ ہم خاص انجمنوں کو تشکیل دے کر ان مظلوم مسلمانوں کے مدد کے لیے قیام کریں جن کا نعرہ لا الہ الا اللہ ہے ۔
کیا وہ وقت نہیں آیا کہ ہم ان سلفیوں کا مقابلہ کریں ؟ میں نے خود مطالعہ کیا ہے ان کی مفتیوں کی جانب سے صادر ان فتوں کا جن میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ مسلمانوں کی ناموس اور بچوں پر بھی رحم نہ کیا جایے ایسے پر آشوب ماحول میں ان مفتیوں کی جانب سے اس طرح کے فتوں کا صادر ہونا ایک غیر منطقی اور عقل سے دور ایک غیر قانونی عمل ہے ۔
تعجب کی بات تو یہ ہے کہ یہ لوگ خود کو مصلح جہان کھتے ہیں اور یہ دعوا کرتے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں آخر یہ کون سا اسلام ہے؟
یہ ایک بے اساس اور جھوٹا دعوا ہے کیوں کہ ان کے اعمال دستورات سے بالکل سازگار نہیں ہیں۔ فرمان پیغمبر تو یہ ہے کہ دشمنوں کے سن رسیدہ افراد اور ان کے بچوں اور عورتوں اور اسرا پر رحم کرو ۔ ۔ ۔
تمام بارسوخ اور اسلامی ملکوں کے سربراہوں پر لازم ہے کہ ایک دوسروں کے ساتھ مشورہ کرکے ان ظالموں کا خاتمہ کریں
آخر میں خداوند متعال سے دعا گو ہوں کہ ان کہ شر کو خود ان تک لوٹاءے ۔ آمین یا رب العالمین

VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR