۱۳۸۵ و ۱۳۸۶ ہجری شمسی کے تحصیلی سال کے آغاز پر حضرت آیت اللہ العظمیٰ حاج شیخ ید اللہ دوزد و زانی کا بیان

بسمہ تعالیٰ

«کلکم راع و کلکم مسئول عن رعیتہ»

"آپ سب ملت کے نگہبان ہیں اور آپ ہی اس ملت کے جوابگو ان کے اعمال کے بارے میں آپ ہی سے سوال کیا جائے گا۔"
آپ لوگوں کو نئے تحصیلی سال کی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور جو افراد راہ تعلیم و تربیت میں کوشاں ہیں ان کے عمل میں مزید توفیقات کا خواہاں ہوں۔

نئے تحصیلی سال کی پہلی منزل پر ہم ملک کے تمام علمی مراکز، مسئولین، اساتید، دانشمند اور طلاب کو یاد دہانی کرانا چاہتے ہیں کہ ان کی کارکردگی صرف تعلیم ہی تک منحصر نہ رہے (جبکہ ان کی ذمہ داری صرف تعلیم ہے) بلکہ ان غنچوں کی تربیت اور تزکیہ کے ذریعہ آبیاری کریں جن کی باغبانی کی ذمہ داری کچھ دنوں کے لئے آپ کو سونپی گئی ہے۔
خداوند متعال نے قرآن کریم میں روح انسانی کی تربیت اور تزکیہ کو تعلیم پر مقدم رکھا ہے اور نبی اکرم (ص) کی شان میں فرمایا ہے: "وہ ان کا (مومنین) کا تزکیہ کرتا ہے اور انہیں تعلیم دیتا ہے۔"
اسی تعلیم و تربیت کے نظام کو ہمیں مدنظر رکھنا چاہئے اور ان وظائف پر اساتید سے عمل کروانا چاہئے۔ اس امر خیر کی ترویج سے غفلت ہماری نئی نسل کے لئے خطرہ کی گھنٹی ہے۔ مغربی ثقافت ہمارے بچوں کو منحرف کرنے میں اثر گذار ہوگی اگرچہ مغربی ثقافت کی روک تھام میں دیر ہوچکی ہے لیکن کہاوت ہے کہ "مچھلی کو جب بھی پانی سے نکالا جائے تازہ ہے۔" لہٰذا غرب زدہ غیر اخلاقی ثقافت سے اپنے بچوں کی روح و فکر کو بچانے کے لئے ہمیں آہنی دیوار کھڑی کرنی ہوگی۔
جو افراد اس سلسلہ میں کارآمد ہیں ان کی طرف اپنا ہاتھ بڑھاتا ہوں اور ہر طرح کی مادی اور معنوی مدد کرنے کے لئے تیار ہوں۔

 

VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR