بيانات

بسمہ تعالی

بخدمت اقدس دنیا ئے شیعیت کے مرجع عظیم الشان حضرت آیت اللہ العظمٰی یداللہ دوز دو زانی مدظلہ العالی
تحیت وسلام اور صحت وسلامتی کی آرزو کے ساتھ جنابعالی کی خدمت میں عرض ہے کہ مندر جہ ذیل سوالات کے بارے میں اپنے بیانات مرقوم فرمائیں تاکہ عوام اس سے مستفیذ ہوسکے .

1. کالے لباس پہنے کا کیا حکم ہے ؟ 
2. اسکے مکروہ ہونے کی صورت میں ؛ کیا محرم صفر اور ایّام عزداری میں بھی پہنا مکروہ ہے ،برای کرم فتویٰ کے مدرک کوبھی بیان فرمائیے.
ہم صمیم دل سے آپ کے شکر گزار ہیں فقط والسلام جنابعالی کے چند مقلدین.
بسم اللہ الرحمن الرحیم
وصلی اللہ علیٰ سیّدنا محمدوآلہ الطاہرین سیّما بقیۃ اللہ فی الارضین عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف واللعن الدائم علی اعداۂم اجمعین .
حضرت سیّدالشہدا ء ۔ کی عزداری میں کالے لباس پہنے کا حکم علماء کے درمیان مشہور فتویٰ یہ ہے کہ کالے لباس پہنا مکروہ ہے خواہ نماز کی حالت میں پہنا جائے یا دیگر حالتوں میں زیب تن کیا جائے اس حکم کے حوالے سے کوئی اختلاف نقل نہیں ہواہے ۔
صاحب جواہر قدس سرہ اس مطلب کو بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں : بعض علماء کی عبارت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ اجماعی ہے اور جناب شیخ طوسی علیہ الرحمہ نے کتاب ’’ خلاف ’’ میں فرمایاہے ’’ یہ مسئلہ اجماعی ہے اور یہ اجماع حجت ہے ،، اسکے علاوہ بہت سی روایتوں میں کالے کپڑے پہنے سے متعلق
نہی وارد ہوئی ہے .
مطلب کی وضاحت کے لئے کراہت سے متعلق چند دلیل قابل ذکر ہیں . 
پہلی دلیل : ادعائے اجماع ہے ۔ جو شیعہ علماء کی عبارتوں میں مرقوم ہے ۔
اور اس مسئلہ میں کسی مخالف نظر پر نگاہ نہیں پڑی ہے ۔ حکم کراہت شیعہ علماء کے نزدیک مخصوصاً قدماء کے درمیان ،مسلّمات میں سے ہے اور اسی وجہ سے
حاج آقا رضا ھمدانی قدس سرہ نے فرمایا ہے کہ اسکی کراہت میں کسی تأمل کی گنجائش نہیں ہے ۔
دوسری دلیل : اس باب سے متعلق روایتیں ہیں کہ تقریباً دس روایتیں اس موضوع سے مربوط نقل ہوئی ہیں ، اور شیخ حر عاملی نے کتاب ’’ وسائل الشیعہ ’’ جلد
۲، صفحہ ۲۷۸،باب ۱۹اور ۲۰میں ، انہیں ذکر کیا ہے اور چونکہ روایتیں زیادہ ہیں لہذا ان کے اسناد کے بارے میں بحث کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور باالفرض اگر یہ روایتیں سند کے اعتبار سے ضعیف بھی ہوں تو شیعہ علماء کا ان روایات پر عمل کرنا ان کے ضعف کو جبران کردے گا ۔ اس مطلب کی تفصیل اس سے متعلق
محل پر بیان و بحث کیا جاچکا ہے ۔
مذکو رہ بیان فوق کے مطابق ، سندی بحث کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ، بلکہ مناسب یہ ہے کہ اس مورد کے بارے میں بحث کریں جو اس حکم سے مستثنیٰ ہے اور وہ سیّد الشہداء علیہ السلام کی عزاداری میں کالے کپڑے پہنا ہے ۔ بظاہر اس کے مستثنیٰ ہونے میں بھی کوئی اختلاف نظرنہیں آتا ہے .
اس استثناکی دلیلوں پر غورکرنے سے پہلے یہ جان لیں کہ کراہت کو عبادات کے باب میں ، قلت وکمی ثواب سے تعبیر کیا گیا ہے . لیکن جو غیر عبادات میں کراہت ہے مثلاً بعض حیوانات کے گوشت کھانے میں جو کراہت ہے وہ اس وجہ سے ہے کہ اس کا ضرر بہت کم ہے یا دوسری وجہیں ہونگی مانند ذاتی یا سماجی یا دینی مصلحتیں وغیرہ تو اس کی کراہت بر طرف ہوجاتی ہے کیو نکہ اگر ضرر،ضرر اہم ہوگا جیسے اگر انسان کوئی ایسی چیز کھائے جو اسکے عقیم یا نابینا ہونے کا موجب ہوگا تو اسطرح کے ضرر اور اسطرح کے عمل کا مرتکب ہونا حرام ہے ۔ 
مذکورہ بیان فوق پر غور کرنے سے معلوم ہوجائے گا کہ کالے کپڑے پہنا چونکہ آنکھ ، یا بدن کے دیگر اعضاء یا اسکی ذہنی قابلیت کے لئے مضر ہے یا اسکے دیگر مفاسد ہیں .لہذا مکروہ ہے اور اسی کے مقابلے میں دیکھتے ہیں کہ زرد جوتا پہنا، اسکی مصلحتوں کے مد نظر مستحب ہے کیونکہ کہا گیا ہے چشم کیلئے ، یا اسکی ذہنی قابلیت کیلئے مفید ہے ، پس معلوم ہوتا ہے کہ یہ کراہت نا  چیز ضرر کی وجہ سے ہے ،اور وقتاً فوقتاً عقلاء اسے انجام دیتے ہیں . مثلاً۔کبھی کبھی ایک عاقل انسان ، مالی منافع کو حاصل کرنے کے لئے ،بدنی ضرر کو بھی مول لیتا ہے اور سماج میں کوئی اسکی مذمت یا اس پر اعتراض نہیں کرتا ہے۔
پنیر کا کھانا بھی ایسا ہی ہے کیونکہ آخروٹ کے بغیر کھانے سے منع کیا گیا ہے ۔
پیغمبر اکرم (ص) اور امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ پنیر کو بغیر آخروٹ کے کھانا اورنیز آخروٹ کوبغیر پنیر کے کھانا بیماری کا باعث ہے لیکن
جب دونوں ساتھ کھایا جائے تو ایسا نہیں ہے کہ صرف اسکے کھانے میں کوئی ضرر نہ ہو ، بلکہ مفید و صحت کے لئے اچھی چیز ہے .
کبھی کوئی عمل اس وجہ سے مکروہ ہے کہ اس عمل کو انجام دینے والا شخص ان لوگون کے شبیہ ہوجاتا ہے جو منحرف وگمراہ نہیں اور اپنے کو منحرفوں
وگمراہوں کے شبیہ کرنا جائیز نہیں یا کبھی ایک عمل ایسی کیفیت کے ساتھ انجام دیا جاتا ہے کہ وہ کیفیت یا لا اباہی یا فاسق یا کافر سے مخصوص ہے ۔
لہذا بعض روایتوں میں آیا ہے :کالا لباس فرعون کا لبا س ہے اس طرح کی روایت دوسری روایت کامطلب واضح ہوتا ہے اسی طرح امام جعفر صادق علیہ السلام نے
فرمایا : میں کالا لباس پہنتا ہوں جبکہ جانتا ہوں کہ یہ اہل جہنم کا لباس ہے ،، البتہ یاد رہے کہ حضرت نے کالا لباس اس وقت پہنا تھا جب بارش ہورہی
تھی اس سے پتہ چلتا ہے کہ کالے کپڑے پہنے کی کراہت بعض وجوہ کی بنا پر برطرف ہوجاتی ہے ۔
یہ تمام بیان شدہ مطالب سے یہ بات روشن اور واضح ہوئی کہ یا ذاتی یا سماجی مصلحتوں یا دیگر وجوہات کے پیش نظر مکروہ کام انجام دینا منع نہیں ہے بلکہ
کراہت بھی برطرف ہوجاتی ہے ۔
لیکن خاصکر عزاداری حضرت سیّدالشہدا ء ۔ میں کالے کپڑے پہنے میں کراہت نہ ہونے کی صرف دو دلیل کے ذکر پر اکتفا ء کرتے ہیں ۔
پہلی دلیل ۔ کتاب وسائل الشیعہ کے مؤلف ، کتاب محاسن برقی سے اس طرح نقل کرتے ہیں : (’’ عن الحسن بن ظریف بن ناصح عن ابیہ عن الحسن بن زید عن عمر
بن علی بن الحسن قال : لما قتل الحسین بن علی علیہ السلام لبست نساء بنی ھاشم السواد والمسوح وکن لا یشتکین من حر لا برد وکان علی بن الحسین علیہ
السلام یعمل لھنّ الطعام للماتم .(وسائل الشیعہ ، ج ۱، ص ۸۹۰) راوی کہتا کہ جب امام حسین علیہ السلام کی شہادت واقع ہوئی تو بنی ہاشم کی عورتوں نے سیاہ وکھردرے لباس پہنے اور اس حالت میں گرمی وسردی کا شکوہ بھی زبان پر نہیں لائی تھیں اور امام علی بن الحسین علیہ السلام مجلس کے لئے غذا تیار کرتے تھے ۔ 

محدث نوری مرحوم نے کتاب ’’ مستدرک’’ میں اس سے متعلق مطالب کو نقل کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ یہ حکایتیں و روایتیں امام حسین علیہ السلام کے ایام عزا کے موقع پر کالے لباس پہنے کے مکروہ نہ ہوے یا اس کے مستسحب ہونے پر دلالت کر رہی یا اشارہ کر رہی ہیں .
دوسری دلیل ۔ ائمہ معصومین علیہم السلام زمانہ سے لیکر عصر حاضر تک یہ سیرت و روش رائج ہے کہ لوگ غم و عزا کہ علامت و نشانی کے لئے کالے کپڑے پہنتے ہیں ۔
محدث نوری مرحوم نے کتاب ’’ مستدرک’’ میں اس دلیل کہ لیئے کچھ شواہد کو ذکر کیا ہے کہ شاید یہا ں ان تمام شواہد کے ذکر کر نے کی ضرورت نہ ہو لہذا صرف
ایک شاہد کہ نقل پر اکتفا کر رہا ہوں ۔ 
ابن فھد کہتے ہیں : ’’ ایک راہب سے سوال ہواکہ کیا سبب ہے تم سیاہ لباس پہنے ہوے ہو اس نے جواب دیا کہ یہ اہل عزا و اہل غم کا لباس ہے بہر حال یہ تمام دینی دانشوروں اور شیعہ علماء کی سیرت رہی ہے کہ و ہ ائمہ معصومین علیہم السلام کی عزا داری مخصوصا حضرت سید اشہداء کی عزا داری میں کا لے لباس پہنتے چلے آرہے ہیں اور مذہب کے بزرگ علماء میں سے کسی نے بھی کوئی اشکال نہیں کیا ہے بلکہ اس عمل کو نیک و اچھا عمل قرار دیا ہے ۔ لہذا اس کے مستسحب ہونے کا بھی حکم دیا جا سکتا ہے ۔
اسی طرح یہ بھی ادعا ء کیا جاسکتا ہے کہ کالا کپڑا تمام عصروں و زمانوں کے لئے سوگواری کی علامت دلیل ہے جس طرح رنگین کپڑے پہنا شادی ،عید و جشن کی دلیل ہے ۔
آخر میں یہ نصیحت کرنا ضروری ہے کہ حضرت سید الشہدا کے بعض مخلص عزادار ، آن حضرت کے عزاداری کے ایام میں ایک طولانی مدت تک علامت عزا کے عنوان سے اپنے سر وداڑھی وغیرہ کے بال کی اصلاح نہیں کراتے ہیں اور اس طرح وہ بعض گمراہ فرقوں کے شبیہ ہو جاتے ہیں ان کا یہ عمل صحیح نہیں ہے ۔ اور گمراہ فرقوں کی شبیہ ہونے کی صورت میں یہ عمل حرام وبدعت ہے کہ اس سے پرہیز کرنا ضروری ہے ۔

VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR