ایک جوان کا خط حضرت آیۃ اللہ کے نام اور اس کا جواب

سلام علیکم

ماہ حسینی اور ایام عزاء میں آپ کی دعا کا طالب ہوں
ابھی میں بالغ بھی نہ ہوا تھا، عمر کی بارہویں بہار ہی سے استمناء (مشت زنی) جیسی مہلک بیماری میں مبتلا ہوگیا۔ تیرہ سال کی عمر میں، میں نے سرحد بلوغ میں قدم رکھا اور اب تک اسی بری عادت کا شکار بنا ہوا ہوں۔

بارہا اس بری عادت سے پیچھا چھڑانے کی انتھک کوشش کی کم از کم دسیوں مرتبہ اور دو تین ماہ اس قبیح عادت کو شکست دینے کے بعد بھی کامیابی نصیب نہ ہوئی، کچھ وقفے بعد پھر اس فعل قبیح کا مرتکب ہوجاتا ہوں۔
اب ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ مجھ میں اس برائی کا مقابلہ کرنے کی قدرت و طاقت ہی نہیں۔ بارگاہ ایزدی میں دعا یہ ہے کہ خدا مجھے معاف کرے معلوم نہیں قابل عفو و مغفرت ہوں یا نہیں؟ آرزو و تمنا یہ ہے کہ صحت و سلامتی باقی رہے، اپنے امور تعلیم کو بنحو احسن انجام دوں، شیعیان حیدر کرار کے درمیان مفید شخصیت کا حامل بنوں لیکن محسوس یہ ہوتا ہے کہ یہ آرزو حسرت کا لبادہ اوڑھ کر دل ہی میں دفن ہوجائے گی۔
ایسی بہت سی خواہشیں ہیں، جیسے دل بہت چاہتا ہے کہ تلاوت قرآن کروں، گذرے ہوئے دنوں کی طرح نماز شب پڑھوں، مسجدوں میں آمد و رفت رکھوں، گناہوں سے دوری اختیار کروں، سب ہی کہتے ہیں کہ تم ان برائیوں سے دور ہونا ہی نہیں چاہتے لیکن خدا کی قسم! حقیقت اس کے برخلاف ہے میں چاہ کر بھی ان برائیوں سے دور نہیں ہو پارہا ہوں اب تو یہ احساس ہونے لگا ہے کہ کاتب تقدیر نے میری قسمت میں جہنم موٹے حروف میں لکھ رکھا ہے اور اس تقدیر کے لکھے کو مٹانا میری توان قدرت سے باہر ہے۔
اینٹرنیٹ کے استعمال سے میں باز نہیں آسکتا، صلۂ رحم اور ہدایا میں خواہش نفسانی اور شہوت رانی نہفتہ ہوا کرتی ہیں، کہا جاتا ہے کہ رشتہ داروں سے ناتا توڑنا حرام ہے لیکن میں کیا کروں ان سے نزدیکی میرے گناہوں میں اضافہ کا سبب ہے، لوگ یہ کہتے ہیں کہ معاشرے سے دوری اچھی بات نہیں ہے اور شرعی لحاظ سے حرام ہے لیکن میرے لئے تو سبب گناہ ہے، حضرات فرماتے ہیں جس حد تک ممکن ہو امر بالمعروف اور تبلیغ دین اسلام کرو، اس فریضہ کو ترک کرنا حرام ہے؛ میرا سوال یہ ہے کہ جب ساری چیزیں اس دنیا میں حرام ہیں تو حلال کیا ہے؟ سنت متعہ پر عمل کرنے کا خواہاں ہوتا ہوں تو گھر کے افراد کی نگاہیں ڈستی ہیں جن کی نظر میں متعہ زنا سے کم نہیں۔ دوسری طرف استمناء (مشت زنی) جیسی بری عادت کو ترک کرنا میری توان و قدرت میں نہیں؛ آپ ہی بتائیے کہ اس صورتحال میں، میں کیا کروں؟
قید حیات سے رشتہ توڑنا چاہتا ہوں تو یہ کہہ کے روک دیا جاتا ہے کہ یہ خود کشی ہے؛ شرعی نکتۂ نظر سے حرام ہے۔ آنکھیں یوسف زہرا(ع) کے جمال کی خواہش میں جب دربدر بھٹکتی ہیں تو یہ کہہ کر اسے مایوس کردیا جاتا ہے کہ یہ گنہگار نظریں کہاں اور یوسف زہرا(ع) کا جمال کہاں؟! میرا سوال آپ سے یہ ہے کہ کیا وہ صرف علماء کے امام(ع) ہیں ہم جیسے گنہگاروں کے نہیں؟ کبھی دل چاہتا ہے کہ کسی ایک ایسے شخص کی تقلید کروں جو مسائل دینی میں سبکی کا قائل ہو اس وقت حضرات یہ کہہ کر مایوس کردیتے ہیں ایسے شخص کی تقلید باطل ہے، میں کیا کروں؟ کیوں کوئی میری مدد نہیں کرتا؟ دوستوں کا کہنا ہے کہ ہم سے کیا مطلب تمہارا جو دل چاہے کرو ہم تو یہ جانتے ہیں کہ تم جیسے انسانوں سے رابطہ نہیں رکھنا چاہئے کیونکہ پیغمبر اسلام(ص) فرماتے ہیں: "الناکح بالید ملعون" مشت زنی کرنے والا ملعون ہے۔
آپ ہی بتائیے آخر کوئی ہے جسے یہ فکر ہو کہ میں گناہوں سے دور ہوجاؤں؟ کوئی ہے جو مجھے بھلا انسان بنانے میں میری مدد کرے؟ میرا امام(ع) مجھ سے راضی و خوشنود ہوجائے؟ آپ جیسے لوگ ہیں کہ اپنے آپ کو نائب امام زمانہ (عج) کہتے ہیں لیکن ہم جیسوں کی فکر ہی نہیں، خمس و زکات و درس و تدریس میں مشغول قم کی سرزمین پر نہایت مطمئن براجمان ہیں، عام افراد کے لئے ملاقات غیر ممکن ہے۔ آپ حضرات اس خوف سے باہر نہیں نکلتے کہ کہیں جان قفس عنصری سے پرواز نہ کر جائے!!!
معاف کیجئے گا یہ بھی میرا ایک گستاخانہ عمل ہے کہ آپ سے اس جارحانہ انداز سے مخاطب ہوا، حالات نے اس قدر مجھ پر زخم لگائے ہیں کہ نہ خدا، نہ ماں باپ، نہ دوست، نہ اسلام، نہ احکام دینی؛ کسی کی حرمت کا خیال نہیں رہتا۔
اب اگر آپ مناسب سمجھیں اور مجھ کو ان حالات میں تنہا چھوڑنے کا ارادہ نہ ہو تو برائے کرم میرے سوالوں کا جواب دے کر میری بے ہدف زندگی کو خاتمہ بخشیں۔

یا علی

جواب خط
بسمہ تعالیٰ

سلام علیکم
چونکہ آپ نے اپنی گفتگو کا آغاز بغیر کسی مقدمہ کے فرمایا لہٰذا جواب خط بھی تمہیدی گفتگو سے گریز کرتے ہوئے تحریر کیا جارہا ہے۔
عزیزم اس چیز کا خیال ہے کہ احکام الٰہی (علیٰ الخصوص محرماتِ الٰہی) انسان کی سلامتی کے ضامن ہیں۔ (سلامتی جسمی، روحی اور معاشرتی)
آج کے اس پیشرفتہ زمانے میں اس بات سے سبھی آگاہ ہیں کہ روزہ انسانی بدن کی صفائی اور فاضل چربیوں کو ختم کرتا ہے حضرت کا ارشاد ہے: "صوموا تصحوا" روزہ رکھو تاکہ صحتمند رہو۔ اسی طرح حرمت استمناء (مشت زنی) کا حکم بھی انسانوں کی بھلائی کو نظر میں رکھ کر مقرر کیا گیا ہے۔ استمناء ضعف اعصاب اور اختلال روحی کا باعث ہے۔ پس ہمیں اس بات کو فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ ترک حرام کے تمام فوائد ہمارے حق میں ہیں۔ میرے عزیز بیٹے! پروردگار متعال نے انسان کو صاحب اختیار خلق فرمایا ہے اس میں یہ توانی و قدرت ودیعت فرمائی ہے کہ وہ بہت سے محرمات کو ترک کرسکتا ہے، انسان کا عزم و ارادہ اسے صالحین میں قرار دے سکتا ہے۔ معصوم(ع) کا ارشاد گرامی ہے کہ مرد کی ہمت پہاڑ کو اپنی جگہ سے اکھاڑ پھینک سکتی ہے میرے عزیز رحمت الٰہی سے کبھی مایوس نہ ہونا، خداوند رحیم تمہارے سارے گناہوں کو بخشنے والا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ گناہوں سے دوری کے عزم کو آج ہی سے اپنے دل و دماغ میں مصمم کرلو، اسے کل پر نہ چھوڑو تم میں یہ توانائی ہے کہ اپنے آپ کو صلحاء کی صف میں لاکھڑا کرو۔
اپنے ارادوں کو حسینی ارادوں کے تحت الشعاع قرار دو خاص کر شہزادہ قاسم(ع) کو یاد کرو جنہوں نے گریہ و زاری کے ذریعے اپنے چچا سے اذن جہاد حاصل کیا تھا۔ ان خاصان خدا کے ارادوں کے طفیل میں اپنے دل کو مضبوط ارادوں کا مسکن بناؤ۔ اگر دین اسلام میں بعض چیزیں حرام ہیں تو وہیں حلال الٰہی کی ایک طویل فہرست ہے جو خواہشات نفسانی کی تسکین کا سبب بنتی ہیں۔ خدا سے نصرت طلب کرو کہ وہ تمہیں سیدھا راستہ دکھائے، ناامیدی کے قعر مذلت سے پرہیز کرو؛ ارشاد خداوندی ہے: "لیس للانسان الا ما سعیٰ۔"(سورۂ نجم، آیت ۵۳) اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔
ہمیں چاہئے کہ زندگی کے تمام مراحل میں دو قسم کی سعی و تلاش میں کوشاں رہیں سب سے پہلی کوشش تو یہ ہونی چاہئے کہ گناہوں کی وادی سے کافی دور ی بنائے رکھیں اور واجبات کو ترک نہ کریں۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں کہ آپ انشاء اللہ بہت سے محرمات سے دور اور واجبات سے نزدیک ہوں گے۔ اگر ان تلاش و سعی کے بعد بھی ہم خدا نخواستہ کسی قسم کے گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں (یعنی واجبات کو ترک کردیتے اور محرمات کو بجا لاتے ہیں) پھر بھی ہمیں سعی و تلاش کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہئے بلکہ فولادی ارادہ کے ساتھ اس گناہ سے دوری کے لئے انتھک کوشش کرنا چاہئے۔ ہمارا وظیفہ اور ذمہ داری سعی و تلاش ہے یہی سعی و تلاش ہیں جو ہمیں لائق اجر و ثواب اخروی بناتی ہیں جس قدر ہماری کوشش زیادہ ہوگی ثواب کی کمیت و کیفیت بھی زیادہ ہوگی اس طرح کی کوشش اور سعی کو "جہاد اکبر" کہا گیا ہے کیونکہ یہ ایک نبرد ہے ہمارے اس نفس کے ساتھ جو ہمیں اوامر الٰہی کے مقابلے میں اکساتا ہے۔ انسان کو چاہئے کہ ہمیشہ اسی جنگی حالت میں رہے اور ایک لمحہ کے لئے بھی اپنے اس دیرینہ دشمن سے غافل نہ ہو۔
انسان کو چاہئے کہ اس ہولناک جنگ میں خداوند متعال سے مدد طلب کرے اب اگر کوئی انسان اس حالت میں دنیا سے رخصت ہوتا ہے اسے "مجاہد فی سبیل اللہ" کہا جائے گا۔ امید قوی ہے کہ خداوند غفور ایسے شخص کے گناہوں کو معاف کردے گا۔
عزیزم! خدا سے مدد طلب کرو، گناہوں سے دوری حاصل کرنے میں ہمیشہ کوشاں رہو، خداوند متعال کی بیکراں رحمت سے کبھی مایوس نہ ہونا، میں بھی تمہارے حق میں دعا گو رہوں گا خدا تمہیں حضرت حر(ع) کی طرح جو جاہ و مقام کی طلب میں بنی امیہ کا فریب کھا چکے تھے اور اپنے وقت کے امام(ع) سے نبرد آزما ہونے کے لئے تشریف لائے تھے شاید یہ حر ہی تھے جو واقعۂ عاشورا کا سبب بنے لیکن ایک فولادی ارادہ کے ذریعے اپنے آپ کو گناہوں سے اس طرح دور کیا کہ شہدائے کربلا کی صف میں آکھڑے ہوئے؛ خدا حضرت حر(ع) کے صدقے میں تمیہں عافیت بخیر کرے۔
جہاں تک سوال ہے امام زمانہ (عج) کی زیارت کا ہمیشہ اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ صرف حضرت کی زیارت اہمیت کی حامل نہیں ہے کیونکہ ابولہب و ابو جہل و۔۔۔ نے بھی پیغمبر اسلام (ص) کے نورانی پیکر کو دیکھا تھا لیکن آپ(ص) پر ایمان نہ لائے اس دید کا فائدہ تو انہیں حاصل نہ ہوا بلکہ گناہ کی کثرت دامن گیر ہوئی۔ میرے عزیز وہ چیز جو اہمیت کی حامل ہے وہ دل کی وابستگی ہے کبھی اپنا معنوی اور قلبی رابطہ حضرت سے قطع نہ کرنا، حضرت اور ان کے ظہور کی دعا وِرد زبان رہے اتنا یقین رہے کہ حضرت تمہارے حق میں دعاگو ہیں۔
ایک اہم بات جس کا یہاں ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں وہ یہ ہے کہ اپنے گناہوں کا تذکرہ کبھی غیر خدا سے نہ کرو، کیوں اس چیز کو برملا کرتے ہو جسے خداوند کریم نے پوشیدہ رکھا ہے۔
خداوند متعال ارشاد فرماتا ہے: "قو انفسکم و اھلیکم ناراً۔" (سورۂ تحریم، آیت ۶۶) اپنے آپ کو اور اپنے لڑکے بالوں کو (جہنم کی) آگ سے بچاؤ۔
انسان کی اپنی کوشش و سعی ہے جو اسے شیطان اور اسارت نفسانی سے نجات دلواتی ہے۔
دوسرے صرف دعا کرسکتے ہیں اس کے علاوہ کچھ اور ان کی توان قدرت میں نہیں ہے۔ خداوند کریم اپنے حبیب جن کا سارا ہم و غم یہ تھا کہ لوگوں کو سیدھے راستے پر گامزن کرا دیا جائے ارشاد فرماتا ہے: "لست علیھم بمسیطر" تم کچھ ان پر داروغہ تو ہو نہیں۔
اگر طے یہ ہوتا کہ ایسے کچھ انسان ہوں جنہیں صرف دیکھ کر لوگ راہ راست پر آجائیں تو ائمہ معصومین علیہم السلام کی ذوات اس امر کے لئے مصداق اتم تھیں لیکن ہوا کیا جن لوگوں کی آمد و رفت کا سلسلہ ان حضرات کی بارگاہ میں تھا ۔ بہت سے افراد انہیں میں سے ان ذوات کے سخت دشمن بنے اس کے روشن نمونے ہمیں میدان کربلا میں دیکھنے کو ملتے ہیں کہ سرکار سید الشہداء کی دلنواز تقاریر و خطبات کے باوجود یہ افراد حضرت کے قتل کے درپے تھے اور سرانجام اس گناہ عظیم کے مرتکب بھی ہوئے، گناہوں کا یہ سلسلہ یہیں ختم نہ ہوا بلکہ آپ(ع) کے اہل خاندان پر بھی ظلم کرنے سے دریغ نہ کیا؛ خلاصۂ سخن یہ کہ گناہوں سے دوری اسی وقت حاصل ہوگی جب انسان خود کوشش کرے علماء و مراجع کرام کا وظیفہ بیانِ احکام شرعی ہے ایسے افراد کے لئے جو دینی احکام پر عمل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ایک اور بات جس سے تمام جوانوں کو مطلع کرنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ ہمارا غریب خانہ ہمیشہ آپ جیسے تشنگان علم و حقیقت کے لئے کھلا ہے، میرے لئے باعث مسرت ہوگا کہ حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی زیارت کے بعد آپ کی تشریف آوری ہمارے خانے میں ہو۔
میرے عزیز! باتیں بہت ہیں شاید تمہاری توان فکری ساتھ نہ دے سکے اگر توفیق الٰہی شامل حال رہی تو پھر کبھی تحریر کروں گا۔

و السلام علیکم و رحمۃ اللہ

محرم الحرام ؁۱۴۳۱ھ ق
مطابق آذر ماہ ؁۱۳۸۸ھ ش
دوزدوزانی

 

 

VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR