نماز کی تعداد

مطلب اول نماز کے بارے میں اور اس میں ٧فصلیں ہیں ۔ فصل اوّل :نماز کی تعداد اور اس کی رکعات کے تعداد کے بارے میں

مسئلہ(٧): جان لو کہ نماز یا واجب ہے یا مستحب اور نماز مستحبی بہت زیادہ ہے اور ا س مختصر میں کچھ احکام نوافل یومیہ کو ذکر کرکے اکتفا کرینگے۔ نماز واجب چھ ہیں ۔اول نماز یومیہ :اس کی تعداد پانچ ہے اول ظہر ،عصر ،مغرب،عشائ،صبح۔دوم:نماز طواف واجب اور یہ ان کے لئے ہے جو حج پرجاتے ہیں ۔سوم:نماز آیات ،چھارم :وہ نماز جو نذر و عہد اور قسم کی وجہ سے واجب ہو جاتی ہے۔پنجم:وہ نماز جو قضا ہوئی ہے چاہے عمدََا چھوٹ گئی ہے یا سہوََا چھوٹ گئی ہے یا اصلاََنماز پڑھی نہیں ہے یا پڑھی ہے لیکن باطل پڑھی ہے جیسے اس کی قرائت صحیح نہیں ہے یا وہ چیزیں شامل ہیں جو نماز کو باطل کر دیتی ہیں وغیرہ ایسی نماز باطل کو قضا کے طور یا اگر داخل وقت ہے تو ادا کے طور پر پڑھنا واجب ہے ۔ششم :اپنے والد کی قضا نمازیں جو بڑے بیٹے پر واجب ہیں اگر چہ دو قسم اخیر یومیہ میں شامل ہے اور احکام نماز طواف و عہد و قسم اول و دوّم کے مسائل کو ذکر کیا جائے گا۔

مسئلہ( ٨): نماز ظہر و عصر اور عشاء ان کے لیٔے جو مسافر نہیں ہے چھار رکعت نماز ہے اور مسافر کے لئے دو رکعت ہے اور نماز مغرب تین رکعت ہے اور نماز صبح دو رکعت ہے

 

اذان و اقامت مسئلہ

ان چیزوں میں سے جو نماز سے پہلے انجام دینا مستحب مؤکد ہے وہ اذان و اقامت ہے. اور اقامت کی تاکید اذان سے زیادہ ہے حتی الامکان ترک نہ ہوجائے۔

مسئلہ(٣٦): اذان ٨ فصل ہے اور اقامت ٩ فصل ہے اس کی ترتیب یوں ہے: ١۔ اللّٰہ اکبر. ٢۔ اشہد ان لا الہ اللّٰہ . ٣۔ اشہد ان محمداً رسول اللّٰہ. ٤۔ حی علی الصلاة. ٥۔ حی علی الفلاح. ٦۔ حی علی خیر العمل. ٧۔ اللّٰہ اکبر. ٨۔ لا الہ اللّٰہ. اور یہ جملہ مشترک ہے اذان و اقامت کے درمیان لیکن اذان میں فصل اول ٤ مرتبہ اور باقی دو مرتبہ ہے لیکن اقامت میں فصل ہشتم ایک مرتبہ ہے اور باقی دو مرتبہ ہے اور اقامت کی حی علی خیر العمل کے بعد دو مرتبہ قد قامت الصلاة کا کہنا مستحب ہے۔

مسئلہ(٣٧): اذان و اقامت کے فصول شرعاً منحصر ہیں انھیں چیزوں میں جن کا ذکر کیا گیا ہے اور اشہد ان علیاً ولی اللہ اذان و اقامت کا جزء نہیں ہے پس قصد ورود اور جزء اذان و اقامت کی نیت سے پڑھنا جائز نہیں ہے بلکہ بہ قصد تیمن و تبرک پڑھنا جائز ہے۔

مسئلہ(٣٨): اذان و اقامت کا مستحب ہونا نماز یومیہ کے ساتھ مختص ہے اور نماز غیر یومیہ وارد نہیں ہے اور نماز غیر یومیہ میں اذان و اقامت کا پڑھنا بدعت اور حرام ہے۔

 

مسئلہ وقت نماز

نماز ظہر اور عصر کا وقت اول ظہر سے لیکر غروب آفتاب تک ہے اور احتیاط یہ ہے کہ آفتاب کے ڈوبنے کے بعد اس کی سرخی ختم ہونے سے پہلے تک نیز قصد ادا و قضا نماز پڑھے بلکہ اسی طرح قصد کر کے کسی طرح خداوند چاہتا ہے. نماز مغرب و عشاء کا وقت اول مغرب سے لیکر آدھی رات تک ہے (یعنی تقریباً گیارہ گھنٹے ٢٠ منٹ بعد از ظہر شرعی ہے) لیکن اگر کسی عذر سے نیند غالب آجائے یا بھول جائے اور آدھی رات تک نماز نہیں پڑھی تو چاہیے کہ صبح تک ادا کی نیت سے نماز پڑھے لیکن اگر عمداً آدھی رات تک نماز نہیں پڑھی ہے تو بنا بر احتیاط بغیر نیت کے ادا و قضاء نماز پڑھے. اور کبھی عمداً کوئی اجزاء نما وقت سے پہلے انجام دے تو یہ نماز باطل ہے۔ لیکن وقت کے گذرنے کے بعد جب ایک رکعت وقت میں داخل ہوجائے تو نماز صحیح ہے، اگرچہ عمداً ہی کیوں نہ ہو۔

 

مسئلہ قبله

قبلہ یعنی اس طرف نماز کی حالت میں کھڑے ہونا واجب ہے ان کے لئے جو خانہ کعبہ کے نزدیک ہوں ( چونکہ خانہ کعبہ قبلہ ہے) اور ان افراد کے لئے جو خانہ کعبہ سے دور ہیں اس طرف رخ کر کے نماز پڑھے جس طرف خانہ کعبہ ہے۔

 

مسئلہ لباس نمازگزار

مرد کے لئے نماز کی حالت میں ستر عورت (شرمگاہوں کا چھپانا) کرنا واجب ہے اگرچہ اس کو کوئی دیکھنے والا نہ ہو. اور عورت کے لئے تمام بدن کا چھپانا واجب ہے حتی کہ سر کے بالوں تک لیکن چہرے کو چھپانا واجب نہیں ہے اتنی مقدا میں جتنا وضو میں دھویا جاتا ہے اور ہاتھوں کو گھٹنے تک اور پیروں کو گھٹنوں تک چھپانا واجب نہیں ہے لیکن اگر کوئی نامحرم دیکھنے والا ہو تو ان تمام چیزوں کا چھپانا واجب ہے۔ مسئلہ(٢٦):وہ لباس جو ستر کے عورت کے لئے ہوتا ہے چاہیے کہ نماز گزار کا لباس اجزاء حرام گوشت سے نہ بنا ہوا ہو لیکن اگر ستر عورت کی مقدار بھر نہ ہو لیکن اگر کوئی نماز گزار بعض اجزاء حرام گوشت کے بنے ہوئے لباس میں نماز پڑھے تو اس کی نماز باطل ہے۔ مردوں کے لئے ابریشم خالص اور سونے سے بنا ہوا کپڑا کے ساتھ نماز پڑھنا جائز نہیں ہے لیکن عورت کے لئے کوئی حرج نہیں ہے اسی طرح لباس نماز گزار و مکان نماز گزار کا مباح ہونا شرط ہے۔

 

مقارنات نماز

فصل سوم :مقارنات نماز کے بارے میں ہے.

مسئلہ(٣٩): مقارنات نماز وہ چیز ہے جو نماز کی حالت میں انجام دینا واجب ہے اور نماز انھیں چیزوں سے مرکب ہے اور اس کی دو قسم ہے۔ بعض واجبات رکن ہیں اور بعض واجبات رکن نہیں ہیں۔ واجبات رکنی ان چیزوں کو کہتے ہیں کہ عمداً و سہواً کم و زیادہ ہوجائے تو نماز باطل ہوجاتی ہے. غیر رکنی وہ چیز ہے کہ اگر عمداً کم و زیادہ ہوجائے تو نماز باطل ہوجاتی ہے لیکن اگر سہواً کم و زیادہ ہوجائے تو نماز باطل نہیں ہوتی ہے. اس کی تفصیل بعد میں آئے گی۔

  

ارکان نماز

واجبات رکنی پانچ ہیں. اول: نیت. دوم: تکبیرة الاحرام. سوم:قیام تکبیرة الاحرام و قیام متصل بہ رکوع ( یعنی ایک قیام تکبیرة الاحرام پڑھتے وقت اور دوسرا قیام رکوع میں جانے سے پہلے ایک لحظہ بدن کو سیدھا کرنا یہ قیام متصل بہ رکوع ہے۔ چہارم: رکوع. پنجم: سجود (دونوں سجدے ملکر ایک رکن ہے)۔

مسئلہ(٤١): نیت وہ ہے اس عمل انجام دینے کے لئے قصد کرنا اور دل میں سوچنا لازم نہیں ہے اور اس میں قصد قربت شرط ہے پس اگر قصد قربت رہا ہو اور کوئی قصد کرے جو مربوط بہ غیر خدا ہے تو نماز باطل اور نماز کا معین کرنا بھی شرط ہے چہ نماز ظہر، عصر، مغرب، عشا۔

مسئلہ(٤٢): تکبیرة الاحرام یہ وہ ہے جو نماز میں قصد کے ساتھ داخ ہونے کے لئے اللہ اکبر کا پڑھنا۔

مسئلہ(٤٣): قیام متصل بہ رکوع یہ ہے رکوع سے پہلے کھڑے ہونا (یعنی بدن کو درحال قیام سیدھا کرنا چاہے حمد و سورہ پڑھا ہو یا نہ پڑھا ہو. چاہے ذکر کے ساتھ قیام سے رکوع میں جائے یا بغیر کچھ پڑھے رکوع میں جائے اس قیام متصل بہ رکوع کہا جائیگا۔

مسئلہ(٤٤): رکوع یہ ہے اتنا جھکنا کہ اس کی ہتھیلی زانو ں تک پہنچ جائے اور بنا بر احتیاط پوری ہتھیلی پر رکھنا واجب ہے اور مستحب ہے زانوں کو پیچھے چھوڑنا۔

مسئلہ(٤٥): نماز کی ہر رکعت میں حمد اور سورہ کے بعد ایک رکوع کرنا واجب ہے۔

مسئلہ(٤٦): سجدہ اس کو کہتے ہیں زمین پر بیٹھ کر پیشانی کو زمین پر رکھنا اس طریقہ سے جو عرفا ًاس پر سجدہ صدق آجائے یعنی بہ اندازہ میری انگلی پیشانی سے زمین پر رکھ دیں تو سجدہ کے لئے کافی ہے۔

مسئلہ(٤٧): پیشانی کا حد لمبائی کے لحاظ سے جہاں سے سر کے بال اگتے ہیں وہاں سے لیکر ناک کے سرے تک ہے اور چوڑائی کے لحاظ سے دونوں جبین کے درمیان ہے یہ پیشانی کا حدود ہے۔

مسئلہ(٤٨): سجدے کی حالت میں سات جگہ اعضاء کو زمین پر رکھنا واجب ہے. دونوں ہاتھ کی ہتھیلی کورکھنا ممکن ہونے کی صورت میں لیکن اگر ہاتھ کی ہتھیلی کو رکھنا ممکن نہیں ہے تو ہاتھ کی پشت کو زمین پر رکھ سکتا ہے اور پیروں کی دوبڑی انگلیوں کو زمین پر رکھنا واجب ہے اور دونوں زانوں اور پیشانی کوزمین پر رکھنا واجب ہے اور جس چیز پر سجدہ کرنا صحیح ہے اس پر پیشانی کا رکھنا واجب ہے۔

مسئلہ(٤٩): ہر وہ چیز جس پر زمین صدق آتی ہے اور وہ چیز جو زمین سے نکلتی ہے جیسے لکڑی، درخت کے پتے ان چیزوں پر سجدہ کرنا صحیح ہے اس شرط کے ساتھ کہ وہ پاک ہو اور کھانے پینے والی چیزوں پر اور پینے والی چیزوں پر اور معدنیات پر سجدہ کرنا صحیح نہیں ہے تو سب سے بہتر ہے کہ تربت امام حسین پر سجدہ کرنا صحیح ہے۔

مسئلہ(٥٠): ہر رکعت میں رکوع کے بعد دو سجدہ کرنا واجب ہے اور یہ دونوں سجدہ ملکر ایک رکن ہوتا ہے. پس اگر سجدہ سہواً کم یا زیادہ ہوجائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔

مسئلہ(٥١): وہ واجبات جو غیر رکن ہیں وہ ٩ چیزیں ہیں: اول:قرائت حمد اور ایک سورہ کا پہلی رکعت اور دوسری میں پڑھنا واجب ہے. دوم: تسبیحات اربعہ، سبحان اللہ والحمد للہ.... کا ایک مرتبہ پڑھنا بنا بر اقویٰ ہے بلکہ بہتر ہے کہ تین مرتبہ پڑھے. سوم: قیام درحال قرائت و تسبیحات اور رکوع کے بعد قیام کرنا واجب ہے. چہارم: ذکر رکوع و سجود وہ یہ ہے تین مرتبہ سبحان اللہ کا پڑھنا یا اور کوئی ذکر تین مرتبہ سبحان اللہ کے برابر پڑھنا واجب ہے بلکہ بہتر ہے کہ رکوع میں سبحان اللہ ربی العظیم و بحمدہ پڑھے اور سجدہ میں سبحان اللہ ربی الاعلی و بحمدہ پڑھے. پنجم: تشہد، اللہ کی وحدانیت پر شہادت دینا اور حضرت خاتم الانبیائۖ کی رسالت پر گواہی دینا اور آنحضرت کی آل پر درود بھیجنا ان الفاظ کے ساتھ اشہد ان لا الہ الا اللہ و اشہد ان محمداً رسول اللّٰہ اور نماز کی دوسری رکعت اور چوتھی رکعت کے بعد تشہد کا پڑھنا واجب ہے اور نماز مغرب کی تیسری رکعت کے بعد تشہد کا پڑھنا واجب ہے. ششم: سلام، السلام علینا و علی عباد اللہ الصالحین یا السلام علیکم و رحمة اللہ و برکاتہ کا پڑھنا واجب ہے یعنی ہر نماز کی آخری رکعت کے بعد تشہد کے بعد سلام کا پڑھنا واجب ہے۔ ہفتم: ترتیب، نیت کے بعد تکبیرة الاحرام کہے پھر اس کے بعد قرائت حمد و سورہ کو پڑھے پھر رکوع میں جائے اور رکوع میں ذکر رکوع پڑھے اور اس کے بعد سجدہ میں جائے اور ذکر سجدہ کا پڑھنا واجب ہیجس طرح بتایا گیا ہے اسی طرح بجالائے. اس طرح رکعت چہارم کو بھی بجالائے اور تشہد پڑھے اس کے بعد سلام پڑھے اور سلام کے بعد نماز سے فارغ ہوجائے۔ ہشتم: موالات، یعنی اجزائے نماز کو پے در پے انجام دینا اور اس کے درمیان فاصلہ نہیں رکھنا چاہیے کہ جسے عرف عام میں لوگ کہیں کہ بہت زیادہ فاصلہ ہو گیا ہے۔ نہم: طمأنینہ، چاہیے کہ تمام اجزاء نماز واجب کو آرام و سکون کے ساتھ بجالائے لیکن اگر حرکت کے ساتھ نماز کو انجام دیتا ہے جیسے جلدی جلدی آکر تکبیرة الاحرام پڑھے اور اس سانس ٹوٹ جائے تو اس کی نماز باطل ہے۔

مسئلہ(٥٢): واجب ہے قرائت اور نماز کے دوسرے ذکر تشہد سلام رکوع سجوداور تکبیرات کے ذکرکو صحیح عربی میں پڑھے یعنی کلمات اور حروف کو مخارج سے صحیح طور پر نکالے جیسے عرف لوگ پڑھتے ہیں پس اگر کوئی کلمات ذکر کو غلط پڑھے یا حروف کو مخارج سے صحیح طور سے نہ نکالے تو اس کی نماز باطل ہے۔

مسئلہ(٥٣): مرد پر واجب ہے حمد اور سورہ کو نماز صبح اور نماز مغرب و عشاء میں بلند آواز سے پڑھے لیکن عورت کو اختیار ہے چاہے بلند آواز سے پرھے یا آہستہ پڑھے لیکن اگر کوئی نامحرم اس کی آواز کو سن رہا ہے تو آہستہ پڑھنا واجب ہے. اور نماز ظہر و عصر میں مطلقہ آہستہ پڑھنا واجب ہے چاہے مرد ہو یا عورت ہو۔

مسئلہ(٥٤): بلند آواز سے نماز پڑھنے کا انداز یہ ہے کہ اس کی آواز کو کوئی دوسرا نہ سنے بلکہ آہستہ پڑھے تاکہ اس کی آواز ظاہر نہ ہو چاہے اس کے ساتھ کوئی سننے والا ہو یا نہ ہو۔

مسئلہ(٥٥): قرائت میں قرآن کے ہر سورہ کو پڑھ سکتا ہے لیکن چار سورہ کو نہیں پڑھ سکتا جس میں سجدہ واجب ہے اور وہ سورہ جو بہت لمبی ہے جس کی وجہ سے نماز کا وقت نکل جاتا ہے اس سورہ کا پڑھنا جائز نہیں ہے۔

مسئلہ(٥٦): وہ سورہ جس میں سجدہ واجب ہے: الم سجدہ (سورہ ٣٢)، حم سجدہ (سورہ ٤١)، والنجم (سورہ ٥٣)، اقراء باسم (سورہ ٩٦)۔

مسئلہ(٥٧): تیسری رکعت اور چوتھی رکعت میں اختیار ہے کہ سورہ حمد پڑھے یا سبحان اللہ پڑھے لیکن تسبیحات اربعہ کا پڑھنا بہتر ہے لیکن اگر سورہ حمد کو پڑھتا ہے تو آہستہ پڑھے۔

  

مستحبات نماز

مسئلہ(٥٨): مستحب نماز بہت زیادہ ہے لیکن اس مختصر رسالہ میں چند چیزوں پر اکتفا ہوا ہے اول تکبیرة الاحرام سے پہلے چھ تکبیر پڑھنا مستحب ہے جو تکبیرة الاحرام کے بعد تکبیرات افتتاحیہ کے نام سے ہے ۔ دوم: ہر رکعت میں رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد اور سجدے کے درمیان اور اسکے بعد اللہ اکبر کا پڑھنا مستحب ہے۔ سوم: قنوت، دوسری رکعت میں قرائت کے بعد قنوت کا پڑھنا مستحب ہے اور وہ چیز جو قنوت کے عنوان سے جو دعا ئیں وارد ہوئی ہیں ان کو پڑھنا مستحب ہے بلکہ مطلقہ دعا و ذکر پڑھ سکتا ہے اور دعا پڑھتے وقت ہاتھوں کو چہرے کے سامنے آسمان کی طرف بلند کرنا مستحب ہے۔ چہارم: رکوع کے بعد تکبیر سے پہلے سمع اللہ لمن حمدہ پا پڑھنا مستحب ہے۔ پنجم: ہر رکعت میں کھڑے ہوتے وقت بحول اللہ و قوتہ اقوم و اقعد کا پڑھنا مستحب ہے۔ ہفتم: تعقیبات، یعنی نماز سے فارغ ہونے کے بعد دعا کرنا، قرآن پڑھنا مستحب ہے اور کم سے کم تین مرتبہ تکبیر پڑھے اور بہتر یہ ہے کہ تسبیح فاطمہ زہراۖ پڑھے کہ اس میں چونتیس مرتبہ اللہ اکبر ٣٣ مرتبہ الحمد للہ اور ٣٣ مرتبہ سبحان اللہ پڑھے۔

 

مبطلات نماز

فصل چہارم: میں

مسئلہ(٥٩): مبطلات نماز دس ہیں: اول: ہر وہ چیز جو وضو اور غسل کو باطل کر دے ان بارہ چیزوں کی طرح جو کہ مسئلہ نمبر ١٦ میں ہو چکا ہے۔ دوم: تکفیر، یعنی جان بوجھ کر ہاتھوں کو باندھ کر سینہ پر رکھنا جس طرح کہ سنی حضرات نماز پڑھتے ہیں۔ سوم: جان بوجھ کر پشت بہ قبلہ ہونا یا دائیں یا بائیں ہونا اگرچہ فقطہ چہرے کو پھیرے اگر چہ جان بوجھ کر مانع نہیں ہے یعنی اگر بھولے سے ادھر ادھر ہوجائے تو کوئی حرج نہیں ہے مگر یہ کہ سہواً بدن پشت بہ قبلہ ہوجائے۔ چہارم: جان بوجھ کر ایسا کلمہ کہے جو ایک حرف یا اس سے زیادہ پر مشتمل ہو اگرچہ بمعنی لیکن اگر سہواً کہے تو نماز باطل نہیں ہوتی ہے اگرچہ کئی بار تکرار ہوجائے تو ضروری نہیں ہے سجدہ سہو کیا جائے لیکن عمداً ذکر خدا ، قرآن اور دعا پڑھنے سے نماز باطل نہیں ہوتی ہے۔ پنجم: قہقہہ لگاکر ہنسنا جو کہ مسکرانے کے خلاف ہو اگرچہ سہواً ہی کیوں نہ ہو۔ ششم: بلند آواز سے دنیا کی خاطر رونا، اگرچہ غیر اختیاری ہو دنیا کی خاطر بے آواز رونے پر نماز کو تمام کرنے اور اسے دوبارہ پڑے لیکن آخرت کی خاطر رونے سے نمازمیں کوئی ضرر نہیں ہے۔ ہفتم: فعل کثیر یا قلیل کہ جو نماز کی شکل کو خراب کرے (یعنی ایسا کام کرنا کہ جسے نماز نہ کہا جا سکے جیسے رقص، اچھلنا)۔ ہشتم: ولا الضالین کے بعد جان بوجھ کر اختیاراً آمینکہنا، لیکن بھولے سے یا تقیہ کی صورت میں ضرر نہیں ہے۔ نہم: مطلقاً نماز کی رکعت میں شک کرنا (یعنی کسی بھی صورت میں یہ معلوم نہ ہو کہ کونسی رکعت ہے، شک کرنا دو رکعتی نماز میں تین رکعتی نماز میں یا چار رکعتی نماز میں اول کی دو رکعت نماز میں شک کرنا)۔ دہم: نماز نماز کے غیر رکنی افعال میں جان بوجھ کر کمی یا زیادتی کرنا اور اسی طرح افعال رکنی میں کمی یا زیادتی کرنا اگرچہ سہواً ہو۔

مسئلہ(٦٠): جان بوجھ کر واجب نماز کو بلا ضرورت توڑنا حرام ہے۔

 

شکیات نماز

فصل پنجم: نماز میں شک تین طرح کا ہوتا ہے: اول: نماز کی شرائط میں شک کرنا یعنی نماز کے مقدمات میں شک کرنا۔ دوم: نماز کے اجزاء میں شک کرنا (یعنی مقارنات)۔ سوم: نماز کی رکعت میں شک کرنا۔ طہارت میں شک کرنا.

مسئلہ(٦١): جب وضو ، غسل یا تیمم میں شک کرے اور یقین کرے کہ اس سے کوئی حدث صادر ہوا ہے تو لازم ہے کہ وہ طہارت کو انجام دے اگر حدث میں شک ہو اور طہارت میں یقین ہو تو طہارت لازم نہیں ہے (مثلاً وضو کیا تھا اور شک کرتا ہے کہ وضو ٹوٹ گیا ہے یا نہیں تو اس کا وضو صحیح ہے) لیکن اگر دونوں یقینی ہوں لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ کونسا پہلے انجام دیا تھا تو اس صورت میں طہارت کرنا لازم ہے۔

مسئلہ(٦٢): نماز کے اجزاء میں شک کرنا اور رکعت میں شک کرنا اس کے اکیس اقسام ہیں، پانچ چیزوں کے شک کا اعتبار نہیں ہے یعنی اپنے شک پر اعتنا نہ کرے اور نماز کو صحیح قرار دے۔ اول: جب بھی نماز کے کسی جز میں شک کرے اور اس کا وقت گزر چکا ہو لیکن اگر وقت نہ گزرا ہو تو اس جزء کو دوبارہ انجام دے اور جس کا وقت گزر چکا ہو تو اس کی پرواہ نہ کرے، مثلاً سورۂ حمد کی تلاوت کے وقت شک کرے کہ میں نے تکبیرة الاحرام کہا ہے یا نہیں کہا ہے یا سورہ کی تلاوت میں یا سورۂ حمد کے بارے میں شک کرے کہ پڑھی ہے یا نہیں (اس صورت میں شک کی پرواہ نہ کرے)۔ دوم: وقت گزرجانے کے بعد شک کرنامثلاً مغرب کے بعد شک کرے کہ نماز ظہر ، عصر پڑھی ہے یا نہیں یا طلوع صبح کے بعد شک کرے کہ نماز مغرب ، عشاء پڑھی ہے یا نہیں یا طلوع آفتاب کے بعد نماز صبح کے بارے میں شک کرے کہ نماز پڑھی ہے یا نہیں ۔ سوم: سلام کے بعد شک کرے کرنا مثلاً صبح کی نماز ، ظہر کی نماز، مغرب کی نماز میں سلام کے بعد شک کرے کہ دو رکعت پڑھی ہے یا کم پڑھی ہے یا زیادہ پڑھی ہے لیکن اس صورت میں جس نماز میں شک کررہا ہے اس کا ایک حصہ صحیح ہونا چاہیے مثلاً جیسے صبح کی نماز ایک دو یا تین کے درمیان میں شک کرے یا نماز مغرب میں دو، تین یا تین و چار کے درمیان شک کرے لیکن اگر دونوں طرف شک باطل ہو جیسے صبح کی نماز میں شک کرے کہ ایک رکعت پڑھی ہے یا تین پڑھی ہے تو ایسی صورت میں نماز باطل ہوجاتی ہے اور مغرب میں دو چار کے درمیان شک کرے اور ظہر،عصر میں تین اور پانچ میں شک کرے تو ایسی صورت میں نماز باطل ہے، چاہیے کہ نماز کو دوبارہ پڑھے۔ چہارم: کثیر الشک: یعنی جو شخص نماز میں زیادہ شک کرتا ہے عرفاً چاہے نماز کے اجزاء میں ہو یا نماز کی رکعت کے بارے میں تو اسے چاہیے کہ اپنے شک کی پرواہ نہ کرے اس کی نماز صحیح ہے۔ پنجم: امام اور ماموم کا شک جبکہ دونوں میں سے ایک کو یقین ہو پس جب بھی دونوں میں سے کسی کو شک ہو اور دوسرے کو یقین ہو تو شک والا یقین پر اعتبار کرے اگر امام ہے تو وہ اپنے یقین پر عمل کرے اور ماموم اس کی اتباع کرے اگر امام کو شک ہو ا ہے اور ماموم کو یقین ہے تو ماموم کو چاہیے کہ وہ کسی بھی طرح سے امام کو متوجہ کرے کی نماز باطل نہ ہو مثلاً تین مرتبہ سبحان اللہ کہے اس علامت کی بناء پر کہ یہ تین رکعت اول ہے یا ظہر، عصر ہے یا تشہد پڑھے اس بنا پر کہ یہ دوسری رکعت ہے یا تیسری رکعت میں مغرب کی ہے یا چوتھی رکعت ہے۔

مسئلہ(٦٣): وہ شک جو ہر صورت میں نماز کو باطل کردیتے ہیں وہ آٹھ ہیں۔ اول: دو رکعت کی نماز واجب میں شک کرنا جیسے صبح کی نماز اور ظہر ، عصر، عشاء مسافر کی دو رکعت نماز میں شک کرنا۔ دوم: تین رکعت کی نماز میں شک کرنا مثل مغرب۔ سوم: چار رکعت کی نماز میں شک کرنا اس صورت میں کہ ایک یا چند رکعت کے بارے میں شک کرنا مثلاً ایک اور تین اور ایک چار اور ایک پانچ میں شک کرنا اس صورت میں چار رکعتی نماز باطل ہے۔ چہارم: دو رکعتی نمازمیں شک کرنا باطل ہے دونوں سجدے کے کامل ہونے سے پہلے لیکن دونوں سجدے کرنے کے بعد اگر شک ہوجائے تو بعض صورتوں میں نماز صحیح ہے اس کا ذکر انشاء اللہ بعد میں ہوگا۔ پنجم: دو اور پانچ کے درمیان اگر شک ہوجائے تو نماز مطلقاً باطل ہے چاہے دونوں سجدہ انجام دینے سے پہلے ہو یا دونوں سجدے کے بعد ہو۔ ششم: تین اور چھ کے درمیان شک کرنا ہر حالت میں نماز باطل ہے۔ ہفتم: چار اور چھ کے درمیان شک کرنا ہر صورت میں نماز باطل ہے۔ ہشتم: رکعتوں کے درمیان شک ہوجائے اور معلوم بھی نہیں ہے کہ کتنی رکعت پڑھی ہے۔

مسئلہ(٦٤): وہ شک جس میں نماز صحیح ہے وہ آٹھ ہیں: ١۔ دو اور تین کے درمیان اگر شک ہوجائے دونوں سجدوں کے انجام دینے کے بعد یعنی سجدۂ دوم کے ذکر تمام ہونے کے بعد شک ہوجائے بنابر اقویٰ نماز صحیح ہے اگرچہ سجدے سے سر نہیں اٹھایا ہے اس صورت میں تین پر بنا رکھے اور ایک رکعت نماز پڑھے اور نماز کو تمام کرے اور ایک رکعت نماز احتیاط پڑھے۔ ٢۔ دو اور چار کے درمیان دونوں سجدے انجام دینے کے بعد اگر شک ہوجائے تو چار پر بنا رکھے اور نماز کو تمام کرے اور بعد میں دو رکعت نماز احتیاط کھڑے ہو کر پڑھے۔ ٣۔ دو اور تین اور چار کے درمیان دونوں سجدے تمام کرنے کے بعد اگر شک ہوجائے تو چار پر بنا رکھے اور نماز کو تمام کرے اور بعد میں دو رکعت نماز احتیاط کھڑے ہو کر پڑھے اور دو رکعت بیٹھ کر پڑھے. احتیاط یہ ہے کہ جو دو رکعت نماز کھڑے ہو کر پڑھتے ہیں اس کو پہلے پڑھے اور بعد میں دو رکعت بیٹھ کر پڑھے۔ ٤۔ چار اور پانچ کے درمیان اگر شک ہوجائے تو دو صورت میں صحیح ہے. ١۔ ایک در حالت قیام اگر شک ہوجائے تو بیٹھ جائے اس صورت میں کہ یہ شک تین اور چار پر پلٹ جاتا ہے اس لئے تین اور چار والے شک پر عمل کرے اور نماز کو تمام کرے اور دو رکعت نماز بیٹھ کر پڑھے اور اس قیام کے ٹوٹ جانے سے دو سجدۂ سہو کرے۔ ٢۔ (دوسری صورت) دونوں سجدے کے انجام دینے کے بعد اگر شک ہوجائے تو اس صورت میں نماز کو تمام کرے اور دو سجدہ سہو کرے جو چار اور پانچ کے درمیان شک ہوا ہے اور دو صورتوں کے علاوہ باقی حالات میں نماز باطل ہے۔ ٦۔ تین اور چار اور پانچ کے درمیان اگرحالت قیام میں شک ہوجائے تو بیٹھ کر جائے کیوں کہ یہ شک پلٹ جاتا ہے دو اور تین اور چار کے درمیان تو اس شک پر عمل کرے اس کا ذکر پہلے ہو چکا ہے اور سجدۂ سہو قیام کے توڑنے کی خاطر بجالائے۔ ٧۔ تین اور پانچ کے درمیان اگر درحال قیام شک ہوجائے تو بیٹھ جائے اس صورت میں یہ شک دو اور چار کے درمیان پلٹ جاتا ہے تو اس شک پر عمل کرے جس کا ذکر ہو چکا ہے لہٰذا اس قیام کے ٹوٹ جانے سے دو سجدۂ سہو بجا لائے۔ ٨۔ پانچ اور چھ کے درمیان اگر در حال قیام شک ہوجائے تو بیٹھ جائے اس صورت میں یہ شک چار اور پانچ کے درمیان پلٹ جاتا ہے چاہیے کہ اسی شک پر عمل کرے جس کا ذکر ہو چکا ہے اگر یہ شک دونوں سجدہ کو بجالانے کے بعد پیش آئے اور اس کے علاوہ اس قیام کے زیادہ ہونے کی خاطر دو سجدۂ سہو بھی بجالائے اور قیام میں اگر تسبیحات اور قرائت پڑھی ہے تو اس کی خاطر بھی دو سجدۂ سہو بجالائے لیکن یہ سجدۂ سہو بر بناء احوط ہے لازم نہیں ہے۔

مسئلہ(٦٥): تمام اقسام شک جن کاکر ہو چکا ہے چاہے وہ شک ہائے باطل ہو ںجس سے نماز ٹوٹ جاتی ہے اور دوبارہ پڑھنی پڑتی ہے چاہے وہ شک جن کا اعتبار نہیں ہے چاہے وہ شک شک ہای صحیح ہو اور جس شک پر عمل کیا جاتا ہے اس صورت میں یہ احکام جاری ہوجاتے ہیں کہ اگر شک مستقر ہو یعنی صرف شک آنے پر عمل کرنا جائز نہیں ہے بلکہ تھوڑا سا غور و فکر کرے اور اگر اس کو یقین یا ظن حاصل ہوجائے تو اس پر عمل کرنا چاہیے اور اگر شک اسی حالت پر باقی رہے تو جو حکم ذکر ہو چکا ہے اس عمل کرے۔

مسئلہ(٦٦): نماز احتیاط کا طریقہ یہ ہے: نماز کے سلام کے بعد بلافاصلہ اور بغیر اس کے کہ کوئی مبطلات نماز انجام دے اس کو چاہیے کہ پہلے نیت کرے اور پھر تکبیرة الاحرام پڑھے اور نیز سورہ حمد تنہا پڑھے اور اس سورۂ حمد کو آہستہ پڑھے اور باقی جو ذکر ہے اس کو دوسری نماز کی طرح بجالائے اور سلام پڑھ کر نماز کو تمام کرے اسی طرح اگر اور بھی نماز احتیاط پڑھنی ہے مثلاً دو رکعت نماز احتیاط کھڑے ہو کر اگر پڑھنا ہے یا مثلاً دو رکعت بیٹھ کر پڑھنا ہے تو اس کا بھی حکم یہی ہے۔

مسئلہ(٦٧): نماز احتیاط میں بھی وہی شرط ہے جو اصل نماز میں ہے دوسری نماز اور نماز احتیاط میں کوئی فرق نہیں ہے اس کے علاوہ ایک شرط ہے جو نماز احتیاط کو اصل نماز کے ساتھ متصل پڑھنا ہے اصل نماز اور نماز احتیاط کے درمیان فاصلہ زیادہ نہیں ہونا چاہیے اور دوسری چیزیں جو مبطلات نماز ہے اس کو انجام نہیں دینا چاہیے جیسے پشت بہ قبلہ ہونا وغیرہ. اور وہ فاصلہ جو نماز اصلی اور نماز احتیاط کے درمیان ہوتا ہے نہ حکم وسط نماز رکھتا ہے پس اگر کوئی مبطلات انجام دے تو اصل نماز کو دوبارہ پڑھنا پڑے گا۔

مسئلہ(٦٨): شک ہائے صحیح میں میں نماز کو توڑنا جائز نہیں ہے بلکہ واجب ہے کہ وظیفہ شک پر عمل کرے اور اگر نماز کو توڑ دے تو اس نے گناہ کیا ہے پس اگر کسی مبطلات کے انجام دینے سے پہلے (مثلاً پشت بہ قبلہ کرنے سے پہلے ) اگر نماز کو دوبارہ پڑھے تو نماز دوم بھی باطل ہے اور اگر کوئی مبطلات انجام دینے کے بعد پڑھے تو نماز دوم صحیح ہے۔

 

سهو

نماز کے سہویات

مسئلہ(٦٩): سہو یا مقدمات نماز میں ہے یا مقارنات نماز (اجزاء نماز) اور اس کی تین قسمیں ہیں۔ ١۔ اس قسم کے ساتھ نماز مطلقاً باطل ہے جیسے طہارت میں اشتباہ کرنا یعنی وضو، غسل اور تیمم میں غفلت کے ساتھ یا اس کا اعتقاد طہارت پر ہے اور نماز میں مشغول ہو گیا ہے اور نماز کے درمیان یا نماز کے بعد متوجہ ہوا کہ اس کا وضو یا غسل اور تیمم نہیں تھا پس اس صورت میں اس کی نماز باطل ہے اس کو چاہیے کہ نماز کو دوبارہ پڑھے۔ ٢۔ اس قسم کے ساتھ نماز مطلقاً صحیح ہے جیسے اجزاء غیر رکنی میںکم یا زیادہ ہونے کا شبہہ کرنا اس کے بعض موارد میں سجدۂ سہو واجب ہے چنانچہ اس کا ذکر بعد میں ہوگا۔ ٣۔ اس کے بعض موارد میں صحیح ہیہے اور بعض موارد میں باطل ہیہے اور یہ چھ قسم ہے۔ ١۔ خباثت سے طہارت میں اشتباہ کرنا یعنی بدن اور لباس نجس کے ساتھ اشتباہاً نماز پڑھی ہے پس اگر نماز سے پہلے متوجہ تھا اور بھول گیا تو اس صورت میں نماز باطل ہے اور اس کو چاہیے کہ نماز کو دو بارہ پڑھے اور اگر وقت گزر گیا ہے تو اس کی قضا کرے لیکن اگر نماز کے بعد متوجہ ہوا ہے تو اس کی نماز صحیح ہے دوبارہ پڑھنا لازم نہیں ہے اگرچہ وقت باقی کیوں نہ ہو اور اگر نماز کے درمیان متوجہ ہوجائے تو اسی حالت میں کسی مبطلات نماز کو انجام دیئے بغیر لباس کو بدل سکتا ہے تو بدل دے یا بدن کو پاک کر سکتا ہے تو پاک کر لے، اس کی نماز صحیح ہے اور اگر ممکن نہیں ہے بلکہ وقت باقی ہے تو چاہیے کہ نماز کوتوڑ دے اور طہارت کے ساتھ نماز کو دوبارہ پڑھے لیکن اگر وقت تنگ ہے تو نماز صحیح ہے دوبارہ پڑھنا لازم نہیں ہے۔ ٢۔ وقت میں اشتباہ کرنا مثلاً اسگمان سیکہ وقت داخل نہیں ہوا ہے لیکن اس کا گمان ہے کہ وقت داخل ہو گیا ہے اور نماز میں مشغول ہو گیا ہے پس اس صورت میں اگر نماز کے بعد متوجہ ہوجائے کہ نماز کا کچھ حصہ وقت میں داخل ہوا ہے تو اس صورت میں نماز صحیح ہے ورنہ باطل ہے۔ ٣۔ قبلہ کے بارے میں اشتباہ کرنا پس اگر معلوم ہوجائے کہ بطور کلی پشت بہ قبلہ نماز پڑھی ہے یا دائیں یا بائیں طرف نماز پڑھی ہے تو نماز باطل ہے چاہے وہ نماز کے درمیان متوجہ ہو یا نماز کے بعد متوجہ ہو جائے اور اگر قبلہ اور دائیں طرف کے درمیان ہو یا قبلہ اور بائیں طرف کے درمیان تو نماز صحیح ہے لیکن نماز کے درمیان متوجہ ہوجائے تو اسی حالت میں قبلہ کی طرف مڑے۔ ٤۔ مکان کے بارے میں اشتباہ کرنا مثلاً کسی غصبی مکان میں اشتباہاً نماز پڑھی ہے. اگر نماز کے بعد متوجہ ہوا ہے تو نماز صحیح لیکن اگر نماز کے درمیان متوجہ ہوا ہے اور اس کے لئے ممکن ہے تو اسی نماز کی حالت میں کسی مباح جگہ پر چلا جائے تو اس کی نماز صحیح ہے لیکن اگر یہ ممکن نہیں ہے تو نماز باطل ہے اور اسی طرح اگر نماز پرھنے والے کی پیشانی جگہ اور پیر کے انگلیوں کی جگہ کے درمیان ملا ہوا چارانگلیوں کے برابر اوپر نیچے ہو تو اس کا بھی حکم وہی ہے۔ ٥۔ لباس کے بارے میں اشتباہ کرنا مثلاً اگر کوئی شخص حرام گوشت حیوان کے اجزاء سے بنا ہوا لباس کے ساتھ اشتباہاً نماز پڑھے پس اگر نماز کے بعد متوجہ ہوا ہے تو نماز صحیح ہے ورنہ نماز باطل ہے یہ حکم اس وقت ہے جب وقت داخل ہو چکا ہو لیکن اگر وقت تنگ ہے تو نماز صحیح ہے اسی طرح مردوں کے لئے ابریشم اور سونے سے بنے ہوئے لباس کا حکم ہے۔ ٦۔ نماز کے ارکان کے بارے میںسہو کرنا مثلاً کسی رکن نماز کو اشتباہاً کم یا زیادہ کرنا تو اس کا زیادہ کرنا مطلقاً نماز کو باطل کردیتا ہے لیکن اگر کسی کے کم ہونے کی صورت میں دوسرے رکن میں داخل ہونے سے پہلے متوجہ ہوجائے تو لوٹ کر اس رکن کے ساتھ نماز کو بجالائے لیکن اگر دوسرے رکن میں داخل ہوا ہے تو نماز باطل ہے۔

مسئلہ(٧١): سات جگہ پر سجدۂ سہو کرنا واجب ہے۔ ١۔ کلام بیجا یعنی نماز کے درمیان اشتباہاً کوئی بات کرے اس گمان سے کہ خود نماز سے خارج ہو گیا ہے یا اصلاً نماز سے غافل ہے اس صورت میں نماز کے بعد فوراً سجدۂ سہو کرنا واجب ہے۔ ٢۔ سلام بیجا، یعنی جہاں سلام کرنے کی جگہ نہیں ہے اور اشتباہاً سلام نماز پرھے مثلاً رکعت دوم کے بعد تشہد کے ساتھ پڑھے پس اگر مبطلات نماز انجام نہیں دیا ہے تو فوراً کھڑے ہو کر نماز کو تمام کرے اور سلام کے بعد دو سجدۂ سہو بجالائے۔ ٣۔ جہاں پر تشہد بھول گیا ہے اور رکوع میں داخل ہونے کے بعد متوجہ ہواہے تو اس صورت میں نماز کو تمام کرے اور دو سجدۂ سہو بجالائے لیکن اگر رکوع سے پہلے متوجہ ہوجائے تو بیٹھ کر تشہد کو پڑھے اور نماز کے بعد دو سجدۂ سہو قیام بیجا کی خاطر بجالائے۔ ٤۔ ایک سجدہ بھول گیا ہے اور رکوع میں داخل ہونے کے بعد متوجہ ہوا لیکن اگر دونوں سجدہ بھول گیا ہے تو رکن ہے اور نماز باطل ہے۔ ٥۔ چار اور پانچ کے درمیان اگر شک ہوجائے چنانچہ اس کاحکم مسئلہ نمبر ٦٤ میں ذکر ہو چکا ہے۔ ٦۔ قیام بے موقع و محل۔ ٧۔یعنی بے موقع بیٹھنا اس سات مورد کے علاوہ مثلاً اجزائے نماز میں کم یا زیادہ کرنا ان چیزوں کے علاوہ جن کا ذکر ہوا ہے اقویٰ یہ ہے کہ سجدہ سہو واجب نہیں ہے لیکن اگر احتیاط کے طور پر ہر چیز کے کم و زیادہ پر سجدہ سہو کرے تو بہتر ہے۔

مسئلہ(٧٢): سجدہ سہو کا طریقہ یہ ہے کہ نماز کے بعد جس چیز کو نماز کی حالت میں کم یا زیادہ کیا ہے اس کے لئے دو سجدۂ سہو کرے پہلے نیت کر کے دو سجدہ سہو بجالائے اور اس میں تکبیر نہیں ہے اور سجدے میں یہ ذکر پڑھنا ہے بسم اللّٰہ و باللّٰہ السلام علیک ایہاالنبی و رحمة اللّٰہ و برکاتہ یا (بسم اللّٰہ و باللّٰہ اللہم صل علی محمد و آل محمد) اور دوسرے سجدے میں بھی اسی طرح پڑھے اور بعد میں بیٹھ کر تشہد پڑھے اور ایک سلام پڑھے السلام علینا یا السلام علیکم کافی ہے۔

مسئلہ(٧٣): بعض اجزائے نماز میں سجدۂ سہو کے علاوہ قضا بھی واجب ہے مثلاً تشہد اور ایک سجدہ بھول گیا ہے تو پہلے ا ن کی قضا کرے اور بعد میں سجدۂ سہو بجالائے حتی کہ وہ سجدۂ سہو جو اس سے پہلے واجب ہوا ہے وہ بھی ان اجزا کے قضا کرنے کے بعد بجالانا ہے۔

مسئلہ(٧٤): اگر نماز احتیاط اور سجدۂ سہو دونوں واجب ہوئے ہوں تو پہلے نماز احتیاط کو پڑھے اور بعد میں سجدۂ سہو بجالائے اسی طرح قضا کے بارے میں کسی جزء نماز کا قضا کرنا ہے تو پہلے قضا پڑھے بعد میں سجدۂ سہو کرے۔

مسئلہ(٧٥): سجدۂ سہو کرنا فوراً واجب ہے نماز کے بعد بلا فاصلہ فوراً بجالائے لیکن اگر بھول گیا ہیتوجب یاد آجائے اس وقت سجدہ سہو بجالائے تو صحیح ہے اسی طرح جو سجدہ سہو بھول گیا ہے یا تشہد بھول گیا ہے تو اس کا فوراً بجالانا واجب ہے لیکن اگر بھول گیا ہے توجب یاد آجائے اسی وقت فوراً بجالائے اگرچہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ سجدہ اور تشہد کی قضا کرنے کے بعداصل نماز کو پڑھے لیکن اگر نماز احتیاط کو بھول جائے اورکسی مبطلات نمازکو انجام دیا ہے تو نماز کا دوبارہ پڑھنا واجب ہے۔

مسئلہ(٧٦): سجدۂ سہو اور اجزائے نماز کے لئے وہی شرائط واجب ہے جو نماز احتیاط کے لئے واجب ہیں جو تمام شرائط نماز کے بارے میں ذکر ہوے ہیں جیسے بدن اور لباس کا پاک ہونا اور قبلہ کا ہونا ستر عورت کا ہونا مکان اور لباس کا مباح ہونا اور باقی چیزیں جو نماز کے بارے میں ذکر ہوئی ہیں یہاں بھی ہونا ضروری ہے۔

 

طریقه نماز

ساتویں فصل: نمازکے طریقے اور دوسری نمازوں کے احکام کے بارے میں ہے

مسئلہ(٧٧): واجب ہے جو نمازیں قضا ہوئی ہیں جس طریقے سے قضا ہوئی ہیں اگر اس کی ترتیب جانتا ہو تو اسی طریقے سے پڑھے، لیکن اگر ترتیب نہیں جانتا تو ترتیب کا واجب ہونا ساقط ہے۔

مسئلہ(٧٨): باپ کی قضا نماز جو بڑے بیٹے پر واجب ہے یہ اس صورت میں ہے جب باپ جان بوجھ کر عمداً نماز نہ چھوڑا ہو۔

مسئلہ(٧٩): چاند گہن و سورج گہن ، زلزلہ کے موقع پر اور وہ آندھی جس ڈر لگتا ہے ان موارد میں نماز آیات واجب ہوجاتی ہے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ ہر رکعت میں سورۂ حمد کے بعد ایک سورہ کا پانچواں حصہ پڑھے اور رکوع کر کے اسیطرح سے پانچ رکوع بجالائے لیکن بہتر یہ ہے کہ ہر رکوع سے پہلے ایک حمد اور ایک سورہ کامل پڑھے۔

مسئلہ(٨٠): احکام نماز آیات نماز یومیہ کی طرح ہیں جیسے مقدمات مقارنات، شکیات، سہویات یہ سب نماز یومیہ کی طرح بجالائے لیکن اس کے رکوع میں اگر شک ہوجائے اور اس کا محل نہیں گزرا ہے تو اقل پر بناء رکھے اور نماز صحیح ہے۔

مسئلہ(٨١): نماز آیات کا وقت سورج گہن اور چاند گہن شروع سے لیکر اس وقت تک ہے جب تک چاند گہن باقی ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ جب چاند گہن ختم ہونا شروع ہوجائے تو بغیر اد و ا قضا کی نیت سے نماز پڑھے اور چاند گہن سورج گہن کے علاوہ باقی نماز آیات میں جب تک زندہ ہے اس وقت تک ادا باقی ہے۔ مسئلہ(٨٢): نماز آیات کی قضا واجب ہے ہر اس شخص پر جس نے نماز کو نہیں پڑھا ہے یہ اس صورت میں ہے جب پورا چاند گہن لگا ہو یا اس موقع پر متوجہ ہو کر عمداً چھوڑ دیا ہے اور اگر چاندکے آدھے حصے میں گہن لگا ہوا ہے اور اس وقت متوجہ نہیں ہوا ہے لیکن بعد متوجہ ہوا ہے تو اس کی قضا واجب نہیں ہے۔

مسئلہ(٨٣): نوافل یومیہ ٣٤ رکعت ہے آٹھ رکعت نوافل ظہر ہے جو ظہر سے پہلے ہے اور اس کا وقت اس موقع تک جب شاخص کا سایہ ظہر کے بعد ٢٧ حصہ ظاہر ہوجائے مثلاً شاخصکی لمبائی ٧ بالشت ہے اور شاخص کا سایہ دو بالشت تک پہنچ جائے تو یہ آخری وقت نوافل ظہر ہے اور آٹھ رکعت نوافل عصر ہے جو عصر سے پہلے پڑھی جاتی ہے اور اس کا وقت اس وقت تک ہے جب شاخص کا سایہ ٤ بالشت تک پہنچ جائے اور نافلہ مغرب چار رکعت ہے جو مغرب کے بعد پڑھی جاتی ہے اور اس کا وقت مغرب کی سرخی زائل ہونے تک ہے اور دو رکعت نافلہ عشاء ہے جو بیٹھ کر عشاء کے بعد پڑھی جاتی ہے اور اس کا وقت نماز عشاء کے آخری وقت ہے اور آٹھ رکعت نماز شب ہے اور دو رکعت نماز شفع ہے اور ایک رکعت نماز وتر ہے اور ان کا وقت آدھی رات کے بعد سے لیکر طلوع فجر تک ہے اور دو رکعت نافلۂ صبح ہے اس کا وقت نماز وتر کے بعد سے لیکر مشرق کے سرخی طاہر ہونے تک ہے۔

مسئلہ(٨٤): یہ نوافل جو ذکر ہوئے ہیں ان میں نماز وتر کے علاوہ ہر دو رکعت کے بعد سلام پڑھا جاتا ہے اور ان کے شرائط وہی شرائط ہیں جو نماز واجب کے لئے بتایا گیا ہے صرف سورہ، قبلہ، قیام اور طمأنینہ واجب نہیں ہے پس نوافل میں جائز ہے بغیر سورہ کے نماز پڑھ سکتے ہیں اور چلتے چلتے بھی پڑھ سکتے ہیں اگرچہ قبلہ منحرف کیوں نہ ہوں اور ان نوافل کے پڑھنے کے لئے بہت تاکید ہوئی ہے اور ثواب بھی بہت زیادہ ہے۔

  

مطهرات

غسل

مسئلہ(١١): واجب غسل آٹھ ہیں،اول غسل جنابت دوم غسل مس میّت ،یعنی میّت کے بدن سے اگر کوئیعضو مس ہو جائے تو اس پر غسل مس میّت واجب ہو جاتا ہے ،سوّم غسل میّت ،چھارم اگر سورج گرہن اور چاند گرہن ہو جائے اور عمداََنماز آیات کو نہیں پڑھا ہے توبنا بر احتیاط واجب یہ ہے اس کی قضا کے لئے غسل کرے یہ چار قسم مر د عورت کے درمیان مشترک ہیں.پنجم غسل مستحب جو کہ نذر قسم عہد کے ذریعہ انسان پر واجب ہو جاتا ہے ،ششم غسل حیض ،ہفتم غسل نفاس،ہشتم غسل استحاضہ ، یہ تین غسل عورتوں کے ساتھ مخصوص ہیں اور ان تمام غسلوں کے ساتھ غسل جنابت کے علاوہ وہ نماز کے لئے اور جن چیزوں کے لئے طہارت شرط ہے ان کے لئے وضو کرنا شرط ہے اور احتیاط یہ کہ وضو غسل سے پہلے کرے ۔

مزید پڑھیے: مطهرات

خمس

مسئلہ(١٠٦): سات چیزوں میں کسی ایک چیز پر خمس واجب ہوجاتا ہے۔

مسئلہ(١٠٧): خمس کا تعلق سات چیزوں پر تعلق ہوتا ہے: ١۔غنیمت یعنی وہ مال جو کفار سے جہاد کر کے ملا ہے. ٢۔وہ معدن جو زمین سے نکالا ہے جیسے عیق، فیروزہ وغیرہ حتی نمک، مونگا، جواہر ہیرا وغیرہ۔ ٣۔گنج.٤۔وہ چیزیں جو غواصی کر کے پانی سے نکالتے ہیں جیسے مرجان۔ ٥۔وہ زمین جو کافر ذمی مسلمانوں سے خریدتا ہے۔ ٦۔حلال مال جس کے ساتھ حرام مال مل گیا ہے. ٧۔ منافع کس جو تجارت وغیرہ سے حاصل ہوتا ہے،چنانچہ پانچ قسم اول عام لوگوں سے تعلق نہیں رکھتیں بلکہ مخصوص افراد کے ساتھ ان کا تعلق ہوتا ہے اس لئے ان کے شرائط اور احکام کو ذکر کرنے سے گریز کرتے ہیں، اور صرف آخری دو قسم جو عام لوگوں سے تعلق رکھتی ہیں ان کو ذکر کرنے کے پر اکتفاء کرینگے۔

مزید پڑھیے: خمس

مطلب دوم روزے کے بارے میں ہے

مسئلہ(٨٥): وہ مبطلات روزہ جن کا ذکر بعد میں ہوگا ان سے پرہیز کرنے کو حقیقت میں روزہ کہتے ہیں۔

مسئلہ(٨٦): روزہ یا واجب ہے یا مستحب ، اور مستحبی روزے بہت زیادہ ہیں اور واجب روزے آٹھ قسم کے ہیں۔

مسئلہ(٨٧): اول روزہ ماہ رمضان المبارک ہے .٢۔ ماہ رمضان المبارک کی قضا ہے اگر ماہ رمضان میں نہ رکھا ہو. ٣۔ کفارہ کا روزہ اس کفارہ کے بعض روزوں کا ذکر اس رسالہ میں ہوگا ر. ٤۔ قربانی کے بدل والا روزہ حج تمتع میں اور اس کا ذکر کتاب حج میں تفصیل سے ہوا ہے. ٥۔وہ روزہ جو نذر و عہد کی وجہ سے واجب ہو جاتا ہے. ٦۔اجارہ کا روزہ جو کسی دوسرے کی طرف سے لیا گا ہے. ٧۔اعتکاف کے تیسرے دن کا روزہ جس کا تفصیلی ذکر کتاب اعتکاف میں ہوا ہے. ٨۔باپ کا قضا روزہ جو بڑے بیٹے پر واجب ہے۔ روزہ ٔ واجب کے شرائط سات ہیں: اول: نیت. ٢۔قصد قربت.٣۔ مسافر نہ ہونا پس اگر کوئی مسافر ہے تو اس کا روزہ صحیح نہیں ہے لیکن قربانی کے بدل والا روزہ حج تمتع میں صحیح ہے۔ ٤۔ جس دن روزہ رکھنا ہے وہ روزہ حرام نہ ہو جیسے عید الفطر و عید القربان کے دن روزہ رکھنا جائز نہیں ہے اسی طرح ماہ رمضان المبارک میں غیر ماہ رمضان المبارک کا اگر روزہ رکھنا چاہتا ہے تو صحیح نہیں ہے. اسی طرح وہ روزہ جو پے در پے رکھنا واجب ہے اور اس کے درمیان عیدین کا روزہ نہ آجائے۔ ٥۔ عورتوں کا حیض اور نفاس سے پورے دن پاک ہونا، پس اگر دن کے ایک حصہ میں بھی نفاس یا حیض آجائے تو روزہ باطل ہے۔ ٦۔ تمام دن بیہوش نہ ہو پس اگر دن میں کچھ حصہ بے ہوش ہوجائے اور اپنے حواس پر کنٹرول نہ کر سکے تو روزہ باطل ہے۔ ٧۔کوئی خوف و ضرر نہ ہو مرض کی وجہ سے یا زیادہ زحمت کی وجہ سے ورنہ روزہ صحیح نہیں ہے۔

مزید پڑھیے: مطلب دوم روزے کے بارے میں ہے

چوتھا مطلب زکات کے بارے میں

مسئلہ(١١٩): نو چیزوں پرزکات واجب ہو جاتی ہے۔ اول و دوم: سونا، چاندی. سوم: بھیڑ، چہارم:گائے. پنجم۔ اونٹ. ششم: کشمش. ہفتم:کھجور. ہشتم:گندم. نہم:جو۔

مسئلہ(١٢٠): سونا اور چاندی کی زکات اس وقت واجب ہے کہ اس کے نصاب کے علاوہ ایک سال گزر چکا ہو اور سکہ معاملہ ہونا چاہیے۔

مزید پڑھیے: چوتھا مطلب زکات کے بارے میں

COM_CONTENT_MORE_ARTICLES

  1. تقلید کے احکام
VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR