سوانح حیات

بسمہ تعالیٰ

حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ الحاج میرزا یداللہ دوزدوزانی مد ظلہ کی سوانح حیات

۱۔ پیدائش بابرکت
حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ الحاج میرزا یداللہ دوزدوزانی ابن الحاج عبدالحمید،ایران کے تبریز شھرمیں ایک دینداراور مذھبی خاندان میں ۱۳۱۴ھ ش
کوپیداہوے،آپ کے والدمحترم ،تبریز کے ایک دیندار ونیک کردارتاجر تھے ۔آپ کےاجدادبہت سالوں پہلے ،دوزدوزانگاؤں جوتبریز سے ۷۰کیلو میٹرکے فاصلہ پرواقع ہے ،وہاں سے ہجرت کرکے،تبریزآگئے اور وہیں سکونت اختیار کرلی .


۲۔ ابتدائی وسطوحی تعلیمات
۱۳۲۲ھ ش کو معظم لہ نے مدرسہ میں داخلہ لیا اور ابتدائی تعلیمات کو مولاناالحاج میر محمود آقا مرحوم سے حاصل کیا۔جو تبریز کی مشہور ومعروف شخصیت تھی ، نیز مولانا الحاج آقامیرزا فرج اللہسے بھی کسب فیض کیا ۔اس کے بعد کی تعلیمات کے لئے ،مدرسہ حسن پاشا میں قدم رکھا ،جوتبریز کےصاحب الامر (عج) کے چوراہے پر واقع ہے ۔تعلیم وتعلّم سے شدید رغبت کی وجہ سے وہ بہت کم عرصے میں، اپنے ہم عصروں میں ایک ممتاز شخصیت کے مالک ہوگئے۔اس کے بعددیگر اساتذہ سے فیضیاب ہونے کے لئے مدرسہ علمیہ طا لبیہ ،جو تبریز
کی جامع مسجد میں ہے،مشغول تحصیل ہوئے، اوردروس منطق،اصول اور لمعتین یعنی شھید ثانی کی شرحلمعہ کی پہلی اور دوسری جلد کی تعلیم کے لئے ،مولانا الحاج میرزاعلی اصغر با غمشہ ای مرحوم ،مولانا الحاج میرزاعلیاصغراخیجہانی مرحوم ،مولانا الحاج سید رضا مرندی مرحوم،اورمولانا الحاج میرزاابوالفضل سرابی مرحوم کے سامنے زانوئے ادب تہ کیا۔


۳۔قم کی طرف ہجرت 
۱۳۳۲ھ ش کومعظم لہ اپنی تعلیمات کی تکمیل کے لئے ،اپنے وطن مالوف سے ہجرتکرکے سرزمین قم المقدسہ تشریف لے آئے ،جبکہ اسوقت آپکی عمر ابھی ۱۸سال بھی نہیں ہوئی تھی ۔ آپ نے اپنی پوری سعیوکوشش کے ساتھ اپنے سطوح کے باقی ماندہ دروس کو،حوزہ علمیہ کے بزرگ اساتذۂ کرام سے ،من جملہ آیۃ اللہ الحاج میرزا محمدمجاہد تبریزی مرحوم کے محضر میں حاضر ہوکر تکمیل کیا ۔


۴۔ اعلیٰ تعلیمات
آیۃ اللہ دوز دوزانی ۱۳۳۷ھ ش کو حج اور عتبات عالیات کی زیارت سے مشرف ہوےاور وہاں سے واپسی کے بعد اس دور کےبزرگ ومحترم اساتذۂ کرام کے درس خارج میں حاضر ہونا شرو ع کیا ،وہ سب سےپہلے آیۃ اللہ العظمی بروجردی طاب ثراہ ،کےدرس خارج میں حاضر ہوے ، اور انکی وفات کے بعد کچھ عرصہ تک ، انقلاباسلامی کے بانیِ رہبر کبیر آیۃاللہ العظمی امام خمینیؒ(رہ) کے درس خارجاصول میں شرکت فرمائی ،جو سلماسی مسجد میں ہوا کرتا تھا،کچھ عرصہ کسبِ فیضکرنے کے بعد آیۃ اللہ العظمی شریتمدار (قدس سرہ)کے خارج فقہ اورخارج اصول میں شرکت کرنے لگے ۔معظم لہ ،اس فقیہِ سعید کے ممتاز وبرجستہ شاگردوں میں سے ہیں ۔ اور آپ نےتقریبًا ۲۵سال تک مسلسل ،
آیۃ اللہ العظمی شریتمداری(قدس سرہ) سے کسب فیض کیا ،جو آپ کے خارج فقہوخارج اصول کا ایک کامل دورہ تھا۔ اس کے علاوہ آپ نے آیۃاللہ العظمیگلپایگانی (قدس سرہ) کے درس خارج سے بھی کسب فیض کیا ہے ۔ اور پھران دونوںآیات عظام سےاجازہ روایت کا شرف حاصل کیا ۔

 

۵۔ فلسفہ کا درس
آپ نے کچھ عرصہ تک آیۃ اللہ الحاج سید محمد حسین طباطبائی مرحوم ، مؤلفتفسیر المیزان کے درس افسار میں شرکت کی اور اسید وران آپ نے ۔کچھ فضلا کرام کو منظومہ سبزواری پڑھایا ۔

 

۶۔ قرآن سے وابستگی
حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ دوزدوزانی طالبِ علمی کے ابتدائی دور سے قرآن کی تعلیمحاصل کرنے کا انتہائی ذوق رکھتے تھے ۔آپ نے۱۳۸۲ھ ق بمطابق ۱۳۴۲ھ ش سے قرآن کی تفسیر کا آغازکیا اور ابھی تکدرس تفسیر کا سلسلہ جاری ہے۔آپ نے کچھ عرصہ تک ،تفسیر کمپانی کو اپنے درس کا محوربناتے ہوئے سوروں کیترتیب کے مطابق تدریس کا سلسلہ جاری رکھا۔لیکن ادھر آپ نے اپنے تفسیر ی کام کو موضوعی شکل دے دیا ہے ۔ اور یہ کاوشچند جلد کتاب کی شکل میں بالکل تیار ہے اور طبع کے لئے آمادہ ہے

 

۷۔ دینی وسماجی خدمتیں
معظم لہ نے تدریس واحکام الہی کی تبلیغ کے علاوہ ایران کے مختلف شہروں،جیسے قم ،تہران ،کرج وتبریز میں ،قابل ذکر سماجی خدمتیں انجام دی ہیں جن میں سے بعض مندرجہ ذیل ہیں۔
( الف) تہران شہر کے جیحو ں روڈ پر مسجد جواد الائمہ تعمیر کروانا ،فیالحال یہ مسجد الحاج کاظم کے نام سے معروف ہے۔ اوربہ احسن وجوہ ادارہ ہورہیہے اور لوگ اس سے فیض اٹھا رہے ہیں ۔
( ب) تبریزکی ۶۳ستون والی تاریخی مسجد کا دوبارہ بنوانا ۔یہ چار سو سالپرانی مسجد تھی جو کچھ سالوں سے متروک ہوچکی تھی، معظم لہ کی سعی کوشش سے اس کی مرمت وتعمیر ہوئی اور وہ اس وقت شہر تبریز کیمشہور وفعال مسجدوں میں سے ہے ۔
( ج ) مختلف مناطق میں مبلغین کا اعزام کرانا ۔آپ نے، ۱۳۵۰ھ ش سے ۱۳۵۷ھ شتک ،گاؤں کے لوگوں کے لئے دینی مسائل کی تعلیم دینے اور غلات وگمراہوں کےمنحرف عقاید کو پھیلنے سے روکنے کے لئے ۔مشرقی آذربایجان صوبہ کے کلیبر شہراور اس کے اطراف کے ۵۰۰دیہاتوں میں مبلغین کواعزام فرمایا ۔اور پھر آپ نےاپنے ذاتی پیسے سے ایک مبلغین ہاؤس بنوایاجس میں مبلغین کے آرام وآرایش اورتبلیغ سے متعلق تمام تر سہولتیں فراہم ہیں ۔ان اعزامی دوروں کی من جملہ خصوصیت یہ تھی کہ مبلغین سے کہا گیا تھاکہ جہاںوہ جارہا ہے، وہاں کے مؤمنین سے نذرانہ کا مطالبہ نہ کرے گا ۔لہذا ان کیتبلیغ مذکورہ مناطق میں نہایت مؤثر ثابت ہوئی۔اور اسی طرح تبلیغ کی یہیروش،زاغہ جو خرم آباد میں ہے اور ھشترود اورشہرری میں بھی اپنائی گئی ۔
(د) گمراہیوں سے مقابلہ ۔ حضرت آیۃ اللہ دوزدوزانی نے صوفیت بہایت اوروھابیت جیسے گمراہ، گروہوں اور منحرف فرقوں کی روز بروز بڑھتی فعالیت کومدنظر رکھتے ہوے ، ۱۳۷۵ھ ش کو حجۃ الاسلام والمسلمین آقا شیخ داؤد الھامیمرحوم، اور حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ مردانی کے تعاون اور ہماہنگی سے ایکادارہ ان تحریکوں سے مقابلہ کے لئے تأسیس کیا جس کا نام مؤسسہ دفاع از حریماسلام ہے ۔ اس حوالے سے آپ نے متعدد جیب سائز کی کتابیں شائع کی ہیں اورمفت بٹوائی ہیں۔ نیچے اس مؤسسہ کی جانب سے فارسی زبان میں کچھ چھپی کتابوں
کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے ۔
۱۔ تصوف از دیدگاہ ائمہ اطہار (ع)
۲۔ پدائش تصوف درمیان شیعیان
۳۔ فرقہ نعمت اللٰھی وگنا بادی
۴۔ فرقہ ھای ذھبیہ واویسیہ و خاکساریہ
۵۔ سیری کوتاہ در مرام اھل حق (علی اللٰھیان )
۶۔ دومحور عقایدوھابیان
۷۔ بہائیت مولود تصوف
اسی طرح اس مؤسسہ کی جانب سے ان موضوعات سے متعلق دیگر کتابیں جو لوگوں کےلئے مفید ہیں ، خریدی جاتی ہیں اورباٹی جاتی ہیں ۔


۸۔ مذھبی جلسوں کا انعقاد
معظم لہ نے دین کی تبلیغ اور نوجوانوں کے سوالات کی جواب دِھی کے لئے ایکنئی روش کے تحت مذہبی جلسوں کا انعقاد کیا ۔یہ جلسے دو دستوں ،بزرگوں اور جوانوں کے ساتھ منعقد ہوتے تھے ۔
(الف) ۱۳۵۳ھ ش کو جلسہ دینی مکتب علی ۔ نام کا ایک ادارہ قائم ہوا ۔یہجلسے اس زمانے میں ایک خاص روش کے تحت، ہفتہ وار،اور مختلف محلوں میںبرگذار کیا جاتاتھا۔مقررڈائس کے پیچھے کھڑے ہوکر تقریر کرتا تھا اور سامعین کرسیوں پر بیٹھےہوتے تھے اور زیادہ تر سامعین جوان وتعلیم یافتہ ہوتے تھے ۔
(ب) ہفتہ وار، جلسہ ۸۰علماء دین ومعمین کرام اورتُجّارحضرات کے واسطے سےادارہ کیا جارہا تھا،اور یہ جلسات نوجوانوں یعنییعنی ۷سال سے ۱۲سال تک کے بچوں کی دینی تربیت سے مخصوص تھے ۔ اور مجموعیطور پرلگ بھگ ایک ہزار نوجوانان جلسات میں شرکت کرتے تھے ۔ان جلسات میں شرکت کرنے والے قرآن کی تعلیم کےعلاوہ احکام اورعقایدکی بھیتعلیم حاصل کرتے تھے ۔ساتھ ہی مذہبی ترانے بھی انہیں یاد کرائے جاتے تھے۔اور مخالفین کے ساتھ مناظرہ کا سلیقہ بھی انہیں بتایا جاتاتھا۔


۹۔تدریس
حضرت آیۃ اللہ دوزدوزانی،قم المقدسہ میں اپنے ددوران تحصیلی میں،ماضی کیطرح حوزہ کے طلاب وفضلاء کوقدیمی دروس و متونکوپڑھایا۔ طا لبِ علمی کے اس مرحلے میں وہ درس کو تمام امور پر مقدم رکھتےتھے ۔اورتحصیل ،تدریس اور مطالعہ کے علاوہ،تفریح،سیاسی وسماجی مسائل جیسے مشاغل میں اپنے کومشغول نہیں کرتے تھے۔۱۴۰۰ھ ق سے معظم لہ نے حوزہ علمیہ میں خارج فقہ واصول کا درس دینا شروع
کیا اور اس وقت سے ابھی تک کے عرصہ میں،فقہ واصولکے مختلف مباحث کو تدریس فرماچکے ہیں۔آپ کے مجلس درس میں حوزہ کے فضلاءِکرام ایک اچھی تعدادمیں حاضر ہوتے ہیں۔


۱۰۔ تصنیفات
حضرت آیۃ اللہ دوزدوزانی کی علوم دینیہ سے متعلق بہت ساری تصنیفات ہیں کہجن میں سے اہم کتابوں کے نام ذیل میں،درج کئے جارہے ہیں ۔
(۱ ) دروس حول نزول القرآن، مطبوعہ ہے ۔
(۲) دروس الموت والحیات والبرزخ واشراط الساعہ ،مطبوعہ ہے۔
(۳) تحقیق اللطیف حول التوقیح الشریف ، مطبوعہ ہے ۔
(۴) دروس حول المعاد ، زیر طبع ہے ۔
(۵) تقریرات فقہ صلاتِ مسافر ، زیر طبع ہے ۔
(۶) کتاب قصاص (۱۴۰۶ھ ق میں تدریس وتحریر ی شکل میں سامنے آئی) زیر طبع ہے۔
(۷) حاشیہ برعروۃ الو ثقٰی،مطبوعہ ہے۔
(۸) رسالہ توضیحُ المسائل۔مطبوعہ ہے۔
(۹) مناسک حج ، مطبوعہ ہے ۔
(۱۰) رسالہ ارشاد المؤمنیں، مطبوعہ ہے
(۱۱) منہاج الصالحین (رسالہ عربی) مطبوعہ ہے ۔
(۱۲) رسالہ ھلا لیہ، مطبوعہ ہے۔
(۱۳) ملحقات توضیح المسائل ، مطبوعہ ہے۔

 

VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR VTEM IMAGE ROTATOR